اگر انسان کی نظر عقاب جیسی ہو جائے تو دنیا کیسی دکھائی دے؟


ذرا تصور کریں کہ اگر انسان کی آنکھیں عقاب جیسی ہوتیں تو دنیا کیسی نظر آتی۔ میں کسی بہت بڑے فٹبال اسٹیڈیم کی سب سے اونچی نشست پر بیٹھا ہوتا اور میدان کے دوسرے کنارے پڑے اخبار کی سرخیاں صاف پڑھ سکتا۔ جو چیز ہمیں ایک دھندلا سا کاغذ دکھائی دیتی، وہ عقاب کے لیے بالکل واضح اور روشن ہوتی۔ یہ محض تخیل نہیں بلکہ حیاتیاتی حقیقت ہے، کیونکہ عقاب کی آنکھ قدرت کا ایک ایسا شاہکار ہے جو انسان کے تصور سے کہیں آگے ہے۔

عقاب کی آنکھ کے ہر ایک مربع ملی میٹر میں تقریباً دس لاکھ فوٹو ریسیپٹر سیلز ہوتے ہیں۔ یہ وہ خلیات ہیں جو روشنی کو محسوس کرتے ہیں اور دماغ تک تصویر پہنچاتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں انسان کی آنکھ میں یہی تعداد صرف دو لاکھ کے قریب ہوتی ہے۔ یعنی عقاب کی آنکھ انسانی آنکھ سے کئی گنا زیادہ حساس اور طاقتور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فضا میں بلند پرواز کرتے ہوئے بھی زمین پر حرکت کرتی ایک چھوٹی سی چیز کو فوراً پہچان لیتا ہے۔

یہ غیر معمولی نظر عقاب کو تقریباً تین اعشاریہ دو کلومیٹر دور سے خرگوش کے برابر شکار دیکھنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ اتنی بلندی اور اتنے فاصلے سے کسی چھوٹے جانور کو پہچاننا انسان کے لیے ناممکن ہے، مگر عقاب کے لیے یہ معمول کی بات ہے۔ اس کی آنکھیں ایسے کام کرتی ہیں جیسے کوئی طاقتور زوم لینس، جو دور کی ایک چھوٹی سی دھبے کو آہستہ آہستہ ایک واضح شکل میں بدل دیتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ عقاب کی نظر صرف فاصلے تک محدود نہیں۔ اگر ہمیں یہ صلاحیت مل جائے تو دنیا صرف زیادہ صاف ہی نہیں بلکہ زیادہ رنگین بھی نظر آئے گی۔ عقاب الٹرا وائلٹ روشنی بھی دیکھ سکتا ہے، جو انسان کی نظر سے پوشیدہ ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے رنگ اور نشانات دیکھتا ہے جو ہمیں دکھائی ہی نہیں دیتے۔ مثال کے طور پر کچھ جانوروں کے جسم پر یا زمین پر موجود وہ نشانات، جو عام آنکھ کے لیے غیر مرئی ہوتے ہیں، عقاب کے لیے بالکل نمایاں ہوتے ہیں۔

اگر کوئی انسان اس نظر کے ساتھ کسی شہر میں چلے تو شاید وہ ہر حرکت، ہر چھوٹا سا بدلاؤ فوراً محسوس کرے۔ دور چلتی گاڑی، کسی کھڑکی میں ہلتی پردہ، یا فٹ پاتھ پر رینگتا کوئی کیڑا، سب کچھ واضح نظر آئے۔ جنگل میں داخل ہوں تو ہر پتے کی جنبش، ہر پرندے کی پرواز اور ہر جانور کی حرکت آنکھ سے اوجھل نہ رہے۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہوگی جس میں انسان ہر وقت مکمل طور پر ہوشیار اور باخبر رہے گا۔

عقاب کی آنکھ کا ایک اور حیران کن پہلو اس کا وسیع میدانِ نظر ہے۔ انسان ایک وقت میں محدود زاویے سے دیکھ سکتا ہے، مگر عقاب کی نظر کہیں زیادہ پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔ وہ ایک ہی لمحے میں آگے، اطراف اور نیچے تک کا منظر بہتر انداز میں دیکھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فضا میں اڑتے ہوئے بھی اسے اپنے اردگرد کے ماحول پر مکمل کنٹرول حاصل ہوتا ہے۔

یہ سب خصوصیات مل کر عقاب کو آسمان کا بادشاہ بنا دیتی ہیں۔ وہ بلندی کو اپنا تخت سمجھتا ہے اور زمین اس کے لیے ایک تفصیلی نقشے کی مانند ہوتی ہے۔ ہر راستہ، ہر حرکت اور ہر ممکنہ خطرہ اس کی نظر میں ہوتا ہے۔ انسان اگرچہ ٹیکنالوجی کے ذریعے دوربینیں اور کیمرے بنا چکا ہے، مگر پھر بھی وہ قدرت کی اس تخلیق کا مکمل مقابلہ نہیں کر سکا۔

یہ سوچنا واقعی حیران کن ہے کہ قدرت نے مختلف مخلوقات کو ان کی ضروریات کے مطابق کیسے صلاحیتیں دی ہیں۔ عقاب کو ایسی نظر اس لیے ملی تاکہ وہ فضا میں رہ کر بھی زمین سے جڑا رہے۔ انسان کو شاید ایسی نظر کی ضرورت نہیں، مگر اس کے بارے میں جاننا ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ قدرتی نظام کتنا متوازن اور ذہین ہے۔

آخر میں، عقاب کی نظر ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ دنیا صرف وہ نہیں جو ہمیں نظر آتی ہے۔ ہمارے اردگرد ایک ایسی دنیا بھی موجود ہے جو ہماری آنکھوں سے چھپی ہوئی ہے۔ اگر ہم ایک لمحے کے لیے بھی عقاب کی آنکھ سے دیکھ سکیں تو شاید ہمیں احساس ہو جائے کہ ہم کس قدر محدود نظر کے ساتھ جیتے ہیں، اور قدرت نے کن مخلوقات کو کس حیرت انگیز کمال سے نوازا ہے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.