سعودی عرب میں گیمنگ کی تعلیم: مستقبل کی نئی سمت


سعودی عرب کی وزارتِ تعلیم نے ملک کے تعلیمی نظام میں الیکٹرانک گیمنگ کو باضابطہ طور پر شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت نہ صرف تعلیمی مقاصد کے لیے گیمز کو استعمال کیا جائے گا بلکہ مسابقتی ای اسپورٹس کو بھی ایک باقاعدہ میدان کے طور پر فروغ دیا جائے گا۔ یہ قدم اس بات کی علامت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مہارتوں کو اب تعلیم کا لازمی حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

اس سلسلے میں وزارت نے National Institute for Professional Development in Education اور Tatweer Educational Services کے ساتھ معاہدے کیے ہیں۔ اس کے علاوہ Safi Electronic Games Group بھی اس منصوبے میں شامل ہے، جو کہ Public Investment Fund کی ذیلی کمپنی ہے۔ ان شراکت داریوں کا مقصد گیمنگ انڈسٹری کو باقاعدہ تعلیمی ڈھانچے کا حصہ بنانا ہے تاکہ طلبہ کو مستقبل کی مارکیٹ کے مطابق تیار کیا جا سکے۔

نئے منصوبے کے تحت گیم ڈویلپمنٹ، ڈیزائننگ، پروگرامنگ اور ای اسپورٹس مینجمنٹ جیسے شعبوں کو اسکولوں، جامعات اور فنی و پیشہ ورانہ اداروں میں متعارف کرایا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو طلبہ گیمنگ کے میدان میں دلچسپی رکھتے ہیں، انہیں واضح تعلیمی راستہ فراہم کیا جائے گا۔ وہ صرف کھیلنے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ گیم بنانے، اسے مارکیٹ کرنے اور عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی تربیت بھی حاصل کریں گے۔

یہ اقدام Saudi Vision 2030 کے وسیع تر اہداف سے ہم آہنگ ہے۔ اس وژن کا مقصد معیشت کو متنوع بنانا اور نوجوانوں کو نئے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت National Strategy for Gaming and Esports ترتیب دی گئی ہے، جس کا ہدف 2030 تک مملکت کو عالمی گیمنگ مرکز بنانا ہے۔

منصوبے میں نصاب کی تیاری، خصوصی تربیتی پروگرام، وظائف، اور قومی سطح پر ای اسپورٹس مقابلوں کے انعقاد جیسے اقدامات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں جدید گیمنگ لیبز اور اکیڈمیز قائم کرنے کا بھی ارادہ ہے، جہاں طلبہ عملی تجربہ حاصل کر سکیں گے۔ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری پر خاص توجہ دی جائے گی تاکہ ٹیکنالوجی کی سہولت ہر علاقے تک پہنچ سکے۔

ماہرین تعلیم کا ماننا ہے کہ اگر گیمنگ کو درست سمت میں استعمال کیا جائے تو یہ طلبہ میں تخلیقی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور ٹیم ورک کو فروغ دے سکتی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ متوازن نگرانی بھی ضروری ہوگی تاکہ تفریح اور تعلیم کے درمیان مناسب توازن قائم رہے۔

یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سعودی عرب مستقبل کی معیشت میں ڈیجیٹل صنعتوں کو مرکزی حیثیت دینا چاہتا ہے۔ اگر منصوبہ کامیابی سے نافذ ہو گیا تو آنے والے برسوں میں مملکت نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی گیمنگ اور ای اسپورٹس کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.