حالیہ دنوں میں xAI کی ایک اندرونی میٹنگ کی ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں Elon Musk نے مستقبل کے بارے میں کافی وسیع اور کچھ حد تک قیاسی خیالات پیش کیے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے اس امکان کا ذکر کیا کہ اگر xAI اور SpaceX کے درمیان کسی نوعیت کا اشتراک یا انضمام ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خلا کی تحقیق تک پھیل سکتے ہیں۔
مَسک کے مطابق آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت کو زمین تک محدود رکھنے کے بجائے خلا میں بھی بھیجا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مدار میں قائم ڈیٹا سینٹرز، بڑی توانائی کے منصوبوں اور حتیٰ کہ چاند پر صنعتی تنصیبات کے خیالات بھی پیش کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انسان اور جدید ذہانت مل کر کام کریں تو ممکن ہے ہم کہکشاں میں مزید آگے تک رسائی حاصل کر سکیں۔ انہوں نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ شاید مستقبل میں ہمیں کسی اور تہذیب کے آثار مل جائیں یا ہم کائنات میں کسی قسم کی زندگی کے شواہد دیکھ سکیں۔
گفتگو میں چاند پر فیکٹریاں قائم کرنے اور وہاں سے سامان خلا میں بھیجنے کے لیے جدید نظام بنانے کا تصور بھی شامل تھا۔ انہوں نے ایسے ماس ڈرائیورز کا ذکر کیا جو کم کششِ ثقل والے ماحول میں مواد کو خلا کی طرف روانہ کر سکیں۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت سے چلنے والے سیٹلائٹس کو گہرے خلا میں بھیجنے کی بات بھی کی گئی، جو نہ صرف ڈیٹا جمع کریں بلکہ خود مختار انداز میں فیصلے بھی کر سکیں۔
یہ خیالات بظاہر سائنس فکشن جیسے محسوس ہوتے ہیں، مگر مَسک کا مؤقف ہے کہ ٹیکنالوجی کی رفتار دیکھتے ہوئے ایسی سوچ ناممکن نہیں رہی۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر توانائی کے بڑے ذرائع دستیاب ہوں اور خلا میں انفراسٹرکچر تیار ہو جائے تو زمین پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔ مدار میں موجود ڈیٹا سینٹرز کو شمسی توانائی سے چلایا جا سکتا ہے، جس سے ماحول پر دباؤ کم ہوگا۔
تاہم یہ تقاریر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب xAI کو اندرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ کچھ سینئر عہدیداروں کے استعفوں کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں، اور ساتھ ہی کمپنی بڑے پیمانے پر فنڈنگ حاصل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ممکنہ عوامی پیشکش سے قبل سرمایہ کاروں کو مستقبل کا بڑا وژن دکھانا بھی اس حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔
کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے خیالات ابھی عملی مرحلے سے کافی دور ہیں اور ان پر خطیر سرمایہ درکار ہوگا۔ دوسری طرف حامیوں کا استدلال ہے کہ تاریخ میں بڑے منصوبے ہمیشہ جرات مندانہ خیالات سے ہی شروع ہوئے ہیں۔ خلا کی دوڑ، چاند پر انسان کی پہلی لینڈنگ اور نجی راکٹ کمپنیوں کا قیام بھی کبھی ناقابلِ یقین لگتا تھا۔
مجموعی طور پر، اس تقریر نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا کہ مَسک صرف زمینی صنعتوں تک محدود نہیں سوچتے بلکہ ان کی نگاہ خلا اور اس سے آگے تک مرکوز ہے۔ آیا یہ خیالات حقیقت کا روپ دھاریں گے یا نہیں، یہ وقت ہی بتائے گا، مگر ایک بات طے ہے کہ ایسی گفتگو ٹیکنالوجی اور خلا کی دنیا میں نئی بحث کو ضرور جنم دیتی ہے۔
