کرناٹک کے مشہور جنگلی علاقے Bhadra Tiger Reserve سے ایک ایسا منظر سامنے آیا جس نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا۔ تصاویر میں ایک سیاہ رنگ کا تیندوا پرسکون پانی کے کنارے کھڑا ہے، اور اس کے ساتھ عام رنگت والے دو تیندوے بھی موجود ہیں۔ تینوں جانور پانی پی رہے ہیں اور ان کا عکس شفاف پانی میں صاف جھلک رہا ہے۔ قدرت کا یہ لمحہ اتنا خوبصورت تھا کہ دیکھنے والے دیر تک اسے بھول نہ سکے۔
جسے عام طور پر بلیک پینتھر کہا جاتا ہے، دراصل وہ کوئی الگ نسل نہیں بلکہ تیندوے ہی کی ایک نایاب شکل ہے۔ سائنسی طور پر اسے میلانِسٹک لیپرڈ کہا جاتا ہے۔ اس میں میلانین نامی مادہ معمول سے زیادہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی کھال گہری سیاہ دکھائی دیتی ہے۔ روشنی کے خاص زاویے میں دیکھیں تو اس کے جسم پر دھبے بھی نظر آ سکتے ہیں، مگر عام طور پر وہ مکمل سیاہ ہی محسوس ہوتا ہے۔
بھارت میں تیندوے کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں، لیکن جنگل میں کسی میلانِسٹک تیندوے کو دیکھ لینا آسان بات نہیں۔ اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ عام تیندووں کے ساتھ بالکل پُرسکون انداز میں پانی پی رہا تھا۔ نہ کوئی خوف، نہ کوئی جھگڑا۔ بس فطرت کا خاموش اور ہم آہنگ منظر۔ ایسے لمحات جنگلی حیات کے شوقین افراد کے لیے کسی خزانے سے کم نہیں ہوتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مناظر اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت کے جنگلات اب بھی حیاتِ وحش کے لیے محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔ گھنے درخت، دریا اور جھیلیں، اور شکار کی مناسب دستیابی شکاری جانوروں کو زندہ رہنے کا بھرپور موقع دیتی ہیں۔ کرناٹک کے جنگلات خاص طور پر اپنی حیاتیاتی تنوع کے لیے مشہور ہیں، جہاں شیر، تیندوے، ہرن اور بے شمار پرندے ایک ہی ماحولیاتی نظام میں سانس لیتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان تصاویر نے لوگوں کو یاد دلایا کہ فطرت اب بھی حیران کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایک سیاہ تیندوے کا عام تیندووں کے ساتھ ایک ہی فریم میں نظر آنا نہ صرف نایاب ہے بلکہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ جنگلی حیات کا توازن برقرار ہے۔
ایسے واقعات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ جنگلات اور جانوروں کا تحفظ کیوں ضروری ہے۔ اگر قدرتی ماحول محفوظ رہے تو ایسے دلکش مناظر آئندہ نسلوں کے لیے بھی باقی رہیں گے۔ یہ منظر صرف ایک تصویر نہیں تھا، بلکہ جنگل کی خاموش خوبصورتی اور زندگی کی ہم آہنگی کا پیغام تھا۔
