28 سال جنگل کی قبر میں زندہ رہنے والا سپاہی: خوف، تنہائی اور سچ کی کہانی



وہ کوئی درندہ نہیں تھا، نہ ہی کسی کہانی کا سایہ۔ وہ ایک عام انسان تھا، مگر اس کی زندگی نے اسے ایسی جگہ پہنچا دیا جہاں انسان اور جانور کے درمیان فرق مٹنے لگتا ہے۔ وہ شخص تقریباً 10,227 دن، یعنی اٹھائیس برس تک زمین کے نیچے ایک تنگ سی کھودی ہوئی پناہ گاہ میں چھپا رہا۔ اس نے کیڑے مکوڑے، چوہے اور جنگلی جڑیں کھا کر زندگی کا چراغ جلائے رکھا۔ اس کا نام تھا Shoichi Yokoi۔

مارچ 1974 میں جب ایک اور جاپانی فوجی Hiroo Onoda کی واپسی کی خبریں دنیا بھر میں گردش کر رہی تھیں، تو لوگ وفاداری اور بہادری کے قصے سنا رہے تھے۔ مگر یوکوئی کی کہانی بالکل مختلف تھی۔ یہ کسی ہیرو کی واپسی نہیں تھی، بلکہ ایک ایسے انسان کی داستان تھی جو خوف، تنہائی اور ذہنی قید میں جیتا رہا۔

یوکوئی پیشے کے اعتبار سے درزی تھا۔ وہ کپڑے سیتا، ناپ لیتا اور ایک سادہ زندگی گزار رہا تھا۔ سیاست اور جنگ اس کے موضوعات نہیں تھے۔ لیکن 1941 میں اسے جبری طور پر فوج میں شامل کر لیا گیا۔ اس کے ہاتھ سے سوئی اور دھاگا لے کر رائفل تھما دی گئی۔ اسے سکھایا گیا کہ سپاہی کی سب سے بڑی عزت یہ ہے کہ وہ ہتھیار نہ ڈالے، چاہے جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔

1943 کے آغاز میں اسے بحرالکاہل کے جزیرے Guam بھیج دیا گیا۔ یہ جگہ باہر سے جنت لگتی تھی، مگر جلد ہی جنگ نے اسے جہنم بنا دیا۔ جولائی 1944 میں امریکہ نے Operation Forager کے تحت گوام پر حملہ کیا۔ شدید بمباری اور زمینی کارروائی نے جاپانی دفاع کو توڑ کر رکھ دیا۔ ہزاروں فوجی مارے گئے، سپلائی لائن ختم ہو گئی، اور رابطہ ٹوٹ گیا۔

ایسے حالات میں یوکوئی کے پاس دو راستے تھے: ہتھیار ڈال دے یا جنگل میں چھپ جائے۔ مگر اس کے ذہن میں برسوں کی تربیت گونج رہی تھی۔ اسے یقین تھا کہ اگر وہ پکڑا گیا تو اسے بدترین سلوک کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہی خوف اسے جنگل کی گہرائیوں میں لے گیا۔

ابتدا میں وہ دس افراد کے گروہ کے ساتھ تھا۔ سب ڈرے ہوئے، سب بھوکے۔ مگر اتنے لوگوں کا ایک ساتھ چھپنا خطرناک تھا۔ کچھ ہی عرصے میں گروہ بکھر گیا۔ آخرکار صرف تین افراد رہ گئے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ الگ الگ رہیں گے تاکہ اگر ایک پکڑا جائے تو باقی بچ سکیں۔ رات کو چپکے سے ملتے، آہستہ آواز میں بات کرتے اور اگلے دن کے لیے امید کا کوئی چھوٹا سا سہارا ڈھونڈ لیتے۔

وقت گزرتا گیا۔ دنیا بدل گئی، مگر گوام کے جنگل میں یوکوئی کے لیے وقت 1944 میں ہی رکا رہا۔ 1964 میں ایک شدید طوفان آیا جس کے بعد اس کے دونوں ساتھی مر گئے۔ اب وہ مکمل طور پر اکیلا تھا۔

اکیلے پن نے اسے توڑا نہیں بلکہ ایک عجیب سی مضبوطی دے دی۔ اس نے تالو فوفو کے علاقے میں زمین کے اندر ایک سرنگ نما گھر بنایا۔ اس کی ساخت ایسی رکھی کہ باہر سے نظر نہ آئے۔ ہوا کے لیے بانس کے کھوکھلے ڈنڈوں سے راستہ بنایا۔ اندر سونے اور ذخیرہ رکھنے کی جگہ الگ رکھی۔ وہ انجینئر نہیں تھا، مگر بقا کی خواہش نے اسے سب کچھ سکھا دیا۔

کپڑوں کا مسئلہ بھی حل کرنا تھا۔ اس کی فوجی وردی گل چکی تھی۔ اس نے درختوں کی چھال کو ریشوں میں بدلا، انہیں ہاتھ سے بُنا اور تانبے کے تار سے سوئی بنا کر اپنے لیے لباس تیار کیا۔ یہ صرف جسم ڈھانپنے کے لیے نہیں تھا، بلکہ خود کو یاد دلانے کے لیے تھا کہ وہ اب بھی انسان ہے۔

خوراک کے لیے وہ چوہے، مینڈک اور مچھلیاں پکڑتا۔ سب سے بڑا خطرہ آگ جلانا تھا، کیونکہ دھواں اسے ظاہر کر سکتا تھا۔ اس نے ایسی لکڑیاں چنیں جو کم دھواں دیتی تھیں اور صرف رات کو کھانا پکاتا۔ اٹھائیس سال میں اس نے ایک بار بھی بے احتیاطی نہیں کی۔

24 جنوری 1972 کی شام دو مقامی شکاریوں نے دریا کے قریب جھاڑیوں میں حرکت دیکھی۔ وہ یوکوئی تھا۔ برسوں بعد کسی انسان سے اس کی آنکھیں ملیں۔ اس نے سمجھا دشمن آ گیا ہے۔ کمزور جسم کے باوجود اس نے حملہ کرنے کی کوشش کی، مگر فوراً قابو میں آ گیا۔ وہ کانپ رہا تھا اور موت کی توقع کر رہا تھا۔ مگر اسے مارا نہیں گیا۔ اسے گھر لے جایا گیا، کھانا دیا گیا۔ ایک پیالہ گرم سوپ نے اس کے ذہن میں بنے برسوں پرانے خوف کو توڑ دیا۔

جاپان واپسی پر اس کا استقبال ہوا، مگر اس کے الفاظ حیران کن تھے۔ اس نے کہا کہ وہ شرمندگی کے ساتھ لوٹا ہے کیونکہ وہ اپنے ملک کے لیے جان نہ دے سکا۔ یہ کسی فاتح کی آواز نہیں تھی، بلکہ ایک ایسے انسان کی تھی جس نے اپنی جوانی جنگل میں گزار دی۔

بعد کی زندگی اس نے سادگی سے گزاری۔ فضول خرچی سے پرہیز کیا اور خاموشی اختیار کی۔ 1997 میں اس کا انتقال ہوا۔ اس کی داستان آج بھی سوال چھوڑ جاتی ہے: کیا یہ غیر معمولی برداشت کی مثال ہے یا اندھی اطاعت کی قیمت؟

جنگل اسے نہیں ہرا سکا۔ بھوک اور تنہائی بھی نہیں۔ اسے شکست دی تو ایک خوف نے، جو اس کے ذہن میں برسوں پہلے بٹھا دیا گیا تھا۔ یہی اس کہانی کا سب سے گہرا سبق ہے۔

 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.