آج ہم ایک ایسی حقیقی داستان کا ذکر کرنے جا رہے ہیں جو سننے میں کسی فلمی منظر سے کم نہیں لگتی، مگر اس کا ہر پہلو تاریخ کا حصہ ہے۔ تصور کریں کہ آپ سمندر کے بیچوں بیچ ایک چھوٹی سی لکڑی کی بیڑی پر اکیلے ہوں۔ چاروں طرف صرف پانی ہی پانی ہو۔ نہ کوئی جہاز، نہ کوئی ساحل، نہ مدد کی کوئی امید۔ اور یہ صورتحال ایک دو دن کی نہیں بلکہ پورے 133 دن تک جاری رہے۔ یہ کہانی ہے ایک چینی ملاح Poon Lim کی، جس نے دوسری جنگِ عظیم کے دوران ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔
یہ واقعہ 1942 کا ہے، جب دنیا جنگ کی آگ میں جل رہی تھی۔ پوون لم چین کے ہائینان جزیرے سے تعلق رکھتے تھے اور ایک برطانوی کارگو جہاز SS Benlomond پر ملازم تھے۔ وہ کوئی فوجی کمانڈو نہیں تھے، نہ ہی کوئی خاص تربیت یافتہ سپاہی۔ وہ بس ایک عام محنتی سیلر تھے، جو جہاز پر کھانے پینے اور صفائی کے فرائض انجام دیتے تھے۔
نومبر 1942 میں جب یہ جہاز جنوبی بحرِ اوقیانوس میں برازیل کے ساحل سے دور سفر کر رہا تھا، تب جرمن آبدوز German submarine U-172 نے اس پر ٹارپیڈو حملہ کر دیا۔ حملہ اتنا اچانک اور تباہ کن تھا کہ جہاز صرف چند منٹوں میں ڈوب گیا۔ پوون لم نے جان بچانے کے لیے سمندر میں چھلانگ لگائی، حالانکہ انہیں تیرنا بھی اچھی طرح نہیں آتا تھا۔ جب وہ پانی کی سطح پر واپس آئے تو ان کا جہاز غائب ہو چکا تھا۔
کافی دیر تک وہ لہروں کے رحم و کرم پر بہتے رہے، یہاں تک کہ انہیں ایک چھوٹا سا لائف رافٹ نظر آیا۔ وہ کسی طرح اس تک پہنچے اور اس پر سوار ہو گئے۔ اس لمحے سے ان کی 133 دن طویل جدوجہد کا آغاز ہوا۔
یہ رافٹ تقریباً آٹھ فٹ لمبا تھا۔ اس میں کچھ ابتدائی سامان موجود تھا: محدود مقدار میں تازہ پانی، چند ڈبے بسکٹ، کچھ چاکلیٹ، خشک گوشت، دودھ کے ڈبے، لائم جوس، چند فلیئرز اور ایک ٹارپولین کپڑا۔ عام حالات میں یہ سامان چند دن کے لیے کافی ہوتا، مگر پوون لم کو نہیں معلوم تھا کہ مدد کب ملے گی۔ انہوں نے فوراً راشن بندی شروع کر دی۔ پانی ناپ کر پینا، کھانا بچا کر کھانا، اور ہر چیز کو سوچ سمجھ کر استعمال کرنا ان کی روزمرہ حکمتِ عملی بن گئی۔
چند ہفتوں بعد خوراک ختم ہونے لگی۔ اب اصل امتحان شروع ہوا۔ انہوں نے فلیش لائٹ کے اندر سے ایک چھوٹا اسپرنگ نکالا اور اسے موڑ کر مچھلی پکڑنے کا کانٹا بنا لیا۔ رسی کے ریشوں سے ڈوری تیار کی۔ بسکٹ کے ٹکڑوں کو چارے کے طور پر استعمال کیا۔ جلد ہی انہیں پہلی مچھلی ملی۔ پھر اسی مچھلی کو بڑی مچھلی کے لیے چارہ بنایا۔
پانی کا مسئلہ اس سے بھی بڑا تھا۔ سمندر کا پانی پینا جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا۔ انہوں نے ٹارپولین کو اس طرح باندھا کہ بارش کا پانی جمع ہو سکے۔ جب بھی بادل برستے، وہ ہر برتن میں پانی محفوظ کر لیتے۔ کئی بار لمبے عرصے تک بارش نہ ہوتی تو پیاس شدت اختیار کر جاتی۔
سمندری پرندے جب تھک کر رافٹ پر بیٹھتے، تو وہ صبر سے انتظار کرتے اور مناسب وقت پر انہیں پکڑ لیتے۔ ان کا گوشت خشک کر کے محفوظ کرتے تاکہ کئی دن تک استعمال ہو سکے۔ ایک بار تو انہوں نے ایک شارک بھی شکار کر لی۔ بڑی مشکل سے اسے رافٹ پر کھینچا اور پانی کے ڈبے کو ہتھیار بنا کر اسے مار گرایا۔ اس کا گوشت کئی دنوں تک ان کے کام آیا۔
جسمانی مشکلات کے ساتھ ذہنی تنہائی بھی کم نہ تھی۔ شروع میں وہ دن گنتے رہے، مگر پھر انہوں نے گنتی چھوڑ دی کیونکہ ہر گزرتا دن امید کم کرتا تھا۔ انہوں نے چاند کی گردش دیکھ کر وقت کا اندازہ لگانا شروع کیا۔ یہی چھوٹے چھوٹے ذہنی سہارے انہیں ہمت دیتے رہے۔
کئی بار جہاز ان کے قریب سے گزرے۔ انہوں نے آواز دی، اشارے کیے، مگر کسی نے نہیں روکا۔ جنگ کے زمانے میں ہر جہاز کو دشمن آبدوز کا خوف تھا۔ بعض کا خیال تھا کہ شاید وہ جاپانی ہوں، اس لیے مدد سے گریز کیا گیا۔ ایک بار امریکی طیارے نے انہیں دیکھا بھی، مگر طوفان کے باعث ریسکیو ممکن نہ ہو سکا۔
بالآخر اپریل 1943 میں پوون لم نے محسوس کیا کہ سمندر کے پانی کا رنگ بدل رہا ہے۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ وہ ساحل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ 5 اپریل کو برازیل کے مچھیرے انہیں مل گئے۔ وہ کمزور ہو چکے تھے، مگر زندہ تھے۔ انہیں ساحل پر لایا گیا اور علاج کیا گیا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ 133 دن بعد بھی وہ ہوش و حواس میں تھے۔
وہ اپنے جہاز کے واحد زندہ بچنے والے تھے۔ بعد میں انہیں بہادری کے اعزاز سے نوازا گیا۔ ان کی داستان آج بھی انسانی عزم اور حوصلے کی مثال کے طور پر سنائی جاتی ہے۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان کی سب سے بڑی طاقت اس کا حوصلہ ہے۔ جب سب راستے بند ہو جائیں، تب بھی اگر امید باقی ہو تو زندگی کا سفر جاری رہ سکتا ہے۔ پوون لم نے ثابت کیا کہ زندہ رہنے کی خواہش انسان کو ناممکن حالات میں بھی سہارا دے سکتی ہے۔
