ملائیشیا سے تعلق رکھنے والے ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت Arsyan Ismail کے بارے میں خبر سامنے آئی ہے کہ انہوں نے ویب ڈومین AI.com تقریباً 70 ملین ڈالر میں فروخت کر دیا۔ یہ معاہدہ اپریل 2025 میں طے پایا اور اسے انٹرنیٹ کی تاریخ کے سب سے بڑے عوامی طور پر ظاہر کیے گئے ڈومین سودوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسماعیل نے یہ ڈومین 1993 میں صرف 100 ڈالر میں خریدا تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس وقت ان کی عمر محض دس برس تھی۔ انہوں نے یہ خریداری اپنی والدہ کے کریڈٹ کارڈ کے ذریعے کی۔ اس زمانے میں انٹرنیٹ ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا اور عام لوگوں کو ڈومین نام کی اہمیت کا اندازہ بھی نہیں تھا۔ خود ان کی والدہ بھی اس چارج کو دیکھ کر حیران رہ گئی تھیں کیونکہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ ڈومین کیا ہوتا ہے۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس وقت "AI" کا مطلب مصنوعی ذہانت نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اسماعیل کے مطابق انہوں نے یہ ڈومین صرف اس لیے خریدا کیونکہ یہ ان کے نام کے ابتدائی حروف سے ملتا تھا۔ اس دور میں شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ یہی دو حروف آنے والی دہائیوں میں دنیا کی سب سے طاقتور ٹیکنالوجی کی علامت بن جائیں گے۔
وقت کے ساتھ مصنوعی ذہانت کا شعبہ تیزی سے پھیلتا گیا، اور "AI" ایک عالمی اصطلاح بن گئی۔ جیسے جیسے اس ٹیکنالوجی کی اہمیت بڑھی، ویسے ویسے اس مختصر اور سادہ ڈومین کی قدر میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ آخرکار اسے Crypto.com نے خرید لیا۔ اطلاعات کے مطابق کمپنی کے چیف ایگزیکٹو اس نام کے تحت مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک نیا پلیٹ فارم بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یہ سودا اس بات کی واضح مثال ہے کہ انٹرنیٹ کے ابتدائی دنوں میں معمولی قیمت پر خریدی گئی ڈیجیٹل جائیداد وقت گزرنے کے ساتھ کس قدر قیمتی اثاثہ بن سکتی ہے۔ آج کے دور میں مختصر اور یاد رہ جانے والے ڈومین نام بہت کم رہ گئے ہیں، خاص طور پر وہ جو عالمی سطح پر پہچانے جانے والے الفاظ یا حروف پر مشتمل ہوں۔ اسی لیے ان کی قیمتیں کروڑوں ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نوجوانوں کے لیے ایک سبق بھی ہے کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں ابتدائی قدم کبھی کبھی غیر متوقع نتائج دے سکتے ہیں۔ اسماعیل نے بچپن میں شاید محض شوق یا تجسس کے تحت یہ ڈومین خریدا تھا، مگر وقت نے اسے ایک بڑی سرمایہ کاری میں بدل دیا۔
یہ کہانی صرف ایک کاروباری کامیابی نہیں بلکہ انٹرنیٹ کی ترقی کا عکس بھی ہے۔ تین دہائیاں پہلے جو چیز محض ایک سادہ ویب ایڈریس تھی، آج وہ عالمی ٹیکنالوجی کی علامت بن چکی ہے۔ یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں مواقع اکثر وہاں چھپے ہوتے ہیں جہاں عام نظر نہیں پہنچتی۔
