بلیک ہول کے اندر جائیں تو کیا ہوگا؟
بلیک ہول خلا میں موجود ایک ایسی حیران کن جگہ ہے جہاں کششِ ثقل اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ روشنی بھی اس سے باہر نہیں نکل سکتی۔
یہ عام طور پر اس وقت بنتا ہے جب ایک بہت بڑا ستارہ اپنی زندگی کے آخر میں اپنے ہی وزن کے نیچے سکڑ جاتا ہے۔
بلیک ہول کے گرد ایک خاص حد ہوتی ہے جسے ایونٹ ہورائزن کہا جاتا ہے۔
اگر کوئی چیز اس حد کے اندر چلی جائے تو موجودہ سائنسی سمجھ کے مطابق اس کا واپس آنا ممکن نہیں ہوتا۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر کوئی انسان بلیک ہول کے قریب جائے تو کیا ہوگا؟
سب سے پہلے بلیک ہول کی زبردست کششِ ثقل انسان کے جسم پر بہت زیادہ اثر ڈالے گی۔
بلیک ہول کے قریب جسم کے ایک حصے پر دوسرے حصے کے مقابلے میں زیادہ کشش لگ سکتی ہے۔
اس عمل کو عام طور پر اسپگیٹی فکیشن کہا جاتا ہے، کیونکہ جسم لمبا اور کھنچا ہوا محسوس ہوسکتا ہے۔
اگر بلیک ہول کے گرد گرم گیس اور مادے کی ڈسک موجود ہو تو وہاں کا ماحول بھی انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے۔
یہ مادہ بہت تیزی سے حرکت کرتا ہے اور اس سے زبردست حرارت اور تابکاری پیدا ہوسکتی ہے۔
ایک اور دلچسپ بات وقت کے بارے میں ہے۔
آئن اسٹائن کی اضافیت کے مطابق بہت مضبوط کششِ ثقل والے علاقے میں وقت مختلف رفتار سے گزر سکتا ہے۔
دور موجود شخص کو ایسا محسوس ہوسکتا ہے کہ بلیک ہول کے قریب جانے والی چیز کی حرکت بہت سست ہوگئی ہے۔
لیکن اس شخص کے اپنے نقطۂ نظر سے صورتحال مختلف ہوسکتی ہے۔
بلیک ہول کے اندر اصل میں کیا ہوتا ہے، اس کا مکمل جواب سائنس دانوں کے پاس ابھی موجود نہیں۔
ہم بلیک ہول کو براہِ راست دیکھ نہیں سکتے، لیکن اس کے اردگرد موجود ستاروں، گیس اور روشنی پر پڑنے والے اثرات سے اس کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔
سائنس دان جدید دوربینوں اور خلائی مشاہدات کی مدد سے ان پراسرار اجسام کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔
بلیک ہول ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ کائنات میں ابھی بہت سے ایسے راز موجود ہیں جنہیں انسان پوری طرح سمجھ نہیں سکا۔
