آج سے کروڑوں سال پہلے زمین کی دنیا بالکل مختلف تھی۔ اگر آپ اُس وقت خلا سے ہماری زمین کو دیکھتے تو شاید پہچان ہی نہ پاتے۔ تمام براعظم آپس میں جڑے ہوئے تھے اور ایک ہی عظیم سپر کانٹیننٹ موجود تھا۔ خشکی ویران تھی، نہ درخت تھے، نہ جانور، نہ پرندے۔ سورج کی خطرناک الٹرا وائلٹ شعاعیں سیدھا زمین کی سطح پر آتی تھیں کیونکہ فضا میں اوزون کی تہہ ابھی مکمل طور پر نہیں بنی تھی۔ ایسے ماحول میں خشکی پر زندگی کا وجود تقریباً ناممکن تھا۔
لیکن سمندر خاموشی سے ایک نئی کہانی لکھ رہے تھے۔ زندگی کی ابتدا پانی میں ہوئی۔ سب سے پہلے نہایت سادہ، ایک خلیے والے جاندار وجود میں آئے۔ وقت کے ساتھ کچھ ننھے پودوں نے سورج کی روشنی سے توانائی بنانے کا عمل شروع کیا، جسے ہم فوٹو سنتھیسز کہتے ہیں۔ اس عمل کا ایک اہم نتیجہ آکسیجن تھی۔ جیسے جیسے یہ ننھے پودے بڑھتے گئے، ویسے ویسے پانی میں آکسیجن کی مقدار بڑھنے لگی اور پھر وہ فضا میں شامل ہوتی چلی گئی۔ یہی آکسیجن آگے چل کر پیچیدہ زندگی کی بنیاد بنی۔
تقریباً 53 کروڑ سال پہلے ایک ایسا دور آیا جسے سائنس دان “کیمبرین ایکسپلوژن” کہتے ہیں۔ اس مختصر مگر اہم عرصے میں زمین پر بے شمار نئی اقسام کے جاندار نمودار ہوئے۔ سمندروں میں عجیب و غریب مخلوقات تیرتی تھیں۔ کچھ نرم جسم والی تھیں، کچھ کے سخت خول تھے۔ پہلی بار شکاری اور شکار کا رشتہ قائم ہوا۔ خوراک کی ایک باقاعدہ زنجیر وجود میں آئی۔ زندگی کی رفتار جیسے اچانک تیز ہو گئی تھی۔
اس کے بعد بھی کروڑوں سال تک زندگی زیادہ تر پانی تک محدود رہی۔ خشکی اب بھی خالی تھی۔ لیکن تقریباً 40 کروڑ سال پہلے فضا میں آکسیجن کی مقدار اتنی ہو چکی تھی کہ اوزون کی تہہ مضبوط ہو گئی۔ اب سورج کی مضر شعاعوں سے کچھ حد تک تحفظ ملنے لگا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب زندگی نے پانی سے نکل کر زمین پر قدم رکھنے کی ہمت کی۔
سب سے پہلے پودے خشکی پر آئے۔ چھوٹے چھوٹے پودے آہستہ آہستہ بڑے درختوں میں بدل گئے۔ گھنے جنگلات وجود میں آئے۔ فنگس اور دیگر جاندار بھی پھیلنے لگے۔ پھر کیڑے مکوڑے اور آرتھروپوڈز نے زمین پر اپنی دنیا بنانا شروع کی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب حشرات الارض کا سائز حیران کن حد تک بڑا تھا۔
میگا نیورا – دیوقامت ڈریگن فلائی
اس دور کی ایک مشہور مخلوق میگا نیورا تھی، جو موجودہ ڈریگن فلائی جیسی دکھائی دیتی تھی لیکن اس کے پروں کا پھیلاؤ تقریباً ڈھائی فٹ تک ہوتا تھا۔ یہ اپنے زمانے کی فضا کی حکمران سمجھی جاتی ہے۔ اس سے پہلے اڑنے والے جانوروں کے شواہد نہیں ملتے، اس لیے کئی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ابتدائی اڑنے والی مخلوقات میں شامل تھی۔
دیوہیکل بچھو اور ملی پیڈ
اسی زمانے میں ایک میٹر تک لمبے بچھو بھی پائے جاتے تھے۔ کچھ ملی پیڈ ایسے تھے جن کی لمبائی ایک چھوٹی موٹر سائیکل جتنی ہو سکتی تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ حشرات اتنے بڑے کیوں تھے؟
اس کی ایک بڑی وجہ فضا میں آکسیجن کی غیر معمولی مقدار تھی۔ آج کے مقابلے میں اس وقت آکسیجن تقریباً 30 سے 35 فیصد تک تھی۔ کیڑے مکوڑے اپنے جسم پر موجود باریک سوراخوں کے ذریعے سانس لیتے ہیں۔ جب فضا میں آکسیجن زیادہ ہو تو ان کا جسم زیادہ بڑا ہو سکتا ہے کیونکہ انہیں سانس لینے میں دشواری نہیں ہوتی۔ جدید تجربات میں بھی دیکھا گیا ہے کہ اگر حشرات کو زیادہ آکسیجن والے ماحول میں رکھا جائے تو ان کی نئی نسل نسبتاً بڑی پیدا ہوتی ہے۔
لیکن قدرت کا توازن ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ تقریباً 25 کروڑ سال پہلے زمین نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی تباہی دیکھی، جسے “پرمیئن ماس ایکسٹنکشن” کہا جاتا ہے۔ شدید آتش فشانی سرگرمیوں نے فضا میں زہریلی گیسیں بھر دیں۔ سلفر ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گیسوں کی وجہ سے تیزابی بارشیں ہوئیں۔ سمندروں میں آکسیجن کی کمی ہو گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ تقریباً 90 سے 95 فیصد جاندار ختم ہو گئے۔
یہ تباہی خاص طور پر بڑے جانداروں کے لیے مہلک ثابت ہوئی۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ تاریخ کے اکثر بڑے خاتموں میں چھوٹے جاندار زیادہ بہتر طور پر بچ نکلتے ہیں۔ وہ چھپ سکتے ہیں، کم خوراک پر گزارا کر سکتے ہیں اور بدلتے ماحول کے ساتھ جلدی مطابقت پیدا کر لیتے ہیں۔ یہی چھوٹے بچ جانے والے جاندار آگے چل کر نئی نسلوں کی بنیاد بنتے ہیں۔
اگر ہم پیچھے مڑ کر دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ڈائنوسار کے آنے سے پہلے بھی زمین پر حیرت انگیز دنیا آباد تھی۔ دیوقامت کیڑے، گھنے جنگلات، عجیب سمندری مخلوقات، اور ایسے موسم جن میں شاید پورا سال ایک جیسا درجہ حرارت رہتا تھا۔ درختوں کے فوسلز میں سالانہ حلقے واضح نہیں ملتے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موسموں میں آج جیسا فرق نہیں تھا۔
زندگی کی یہ کہانی ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے۔ زمین مسلسل بدلتی رہتی ہے۔ کبھی آکسیجن بڑھتی ہے تو کبھی گھٹتی ہے۔ کبھی جنگلات پھیلتے ہیں تو کبھی سب کچھ مٹ جاتا ہے۔ لیکن ہر تباہی کے بعد زندگی کسی نہ کسی شکل میں دوبارہ ابھر آتی ہے۔
یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ آج کی پیچیدہ دنیا، انسان، جانور، پرندے اور درخت، سب کی جڑیں انہی قدیم سادہ جانداروں تک جا پہنچتی ہیں۔ چند کیمیائی اجزا سے شروع ہونے والا سفر اربوں سال میں اس مقام تک پہنچا ہے۔ قدرت کی یہ داستان واقعی حیران کن ہے۔
