“مائیکروویو سیف” پلاسٹک: حقیقت کیا ہے؟


اکثر پلاسٹک کے برتنوں پر “مائیکروویو سیف” لکھا ہوتا ہے، اور زیادہ تر لوگ اسے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ برتن مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ دراصل اس اصطلاح کا مطلب صرف یہ ہے کہ یہ پلاسٹک عام مائیکروویو حرارت میں پگھلے گا نہیں، اپنی شکل خراب نہیں کرے گا اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہوگا۔ یعنی اس کی ساخت گرمی برداشت کرنے کے قابل بنائی گئی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس میں موجود کیمیکل بالکل بھی خوراک میں منتقل نہیں ہوں گے۔

جب پلاسٹک کو گرم کیا جاتا ہے تو اس کے مالیکیول حرکت میں آ جاتے ہیں۔ اگر برتن میں رکھی ہوئی غذا زیادہ چکنائی والی، تیل دار یا تیزابی ہو تو کیمیائی اجزا کے منتقل ہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کچھ حالات میں پلاسٹک سے معمولی مقدار میں مادے خوراک میں شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ مقدار عموماً کم ہوتی ہے، مگر ماہرین احتیاط کو بہتر سمجھتے ہیں، خاص طور پر جب بات روزمرہ استعمال کی ہو۔

یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ہر پلاسٹک ایک جیسا نہیں ہوتا۔ مختلف اقسام کے پلاسٹک مختلف درجہ حرارت اور حالات میں مختلف ردِعمل دکھاتے ہیں۔ کچھ پلاسٹک زیادہ مستحکم ہوتے ہیں، جبکہ کچھ نسبتاً حساس ہو سکتے ہیں۔ اگر برتن پر مائیکروویو کے لیے مخصوص نشان موجود ہو تو اس کا مطلب ہے کہ اسے عام حالات میں آزمایا گیا ہے۔ پھر بھی بار بار زیادہ درجہ حرارت پر استعمال اس کی عمر اور ساخت دونوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔

گھر میں عموماً کھانا دوبارہ گرم کرتے وقت لوگ سہولت کو ترجیح دیتے ہیں۔ پلاسٹک ہلکا ہوتا ہے، ٹوٹتا نہیں اور آسانی سے سنبھالا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر کھانا زیادہ دیر تک گرم کرنا ہو یا درجہ حرارت کافی بلند ہو تو شیشہ یا سیرامک برتن زیادہ محفوظ انتخاب سمجھے جاتے ہیں۔ یہ مواد حرارت کو برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ کیمیائی طور پر نسبتاً غیر متحرک ہوتے ہیں، اس لیے ان سے خوراک میں کسی مادے کے شامل ہونے کا امکان کم رہتا ہے۔

خاص طور پر بچوں کے کھانے یا دودھ کو گرم کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔ بچوں کا جسم نسبتاً حساس ہوتا ہے، اس لیے ماہرین اکثر مشورہ دیتے ہیں کہ ایسے معاملات میں شیشے کی بوتل یا پیالہ استعمال کیا جائے۔ اسی طرح اگر پلاسٹک کا برتن پرانا، خراش زدہ یا رنگ بدل چکا ہو تو اسے مائیکروویو میں رکھنے سے گریز کرنا بہتر ہے، کیونکہ خراب سطح حرارت کے اثرات کو بڑھا سکتی ہے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ صرف “مائیکروویو سیف” کا لیبل دیکھ کر مکمل اطمینان نہ کیا جائے۔ بہتر ہے کہ استعمال کی ہدایات بھی پڑھ لی جائیں، کیونکہ بعض برتن صرف مخصوص درجہ حرارت یا مختصر وقت کے لیے موزوں ہوتے ہیں۔ ڈھکن کو تھوڑا سا کھلا رکھنا اور ضرورت سے زیادہ حرارت سے بچنا بھی مفید احتیاطی تدابیر ہیں۔

آخرکار معاملہ توازن کا ہے۔ اگر کبھی کبھار پلاسٹک کا برتن استعمال ہو جائے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں، مگر مستقل طور پر زیادہ حرارت میں اسے استعمال کرنا دانشمندی نہیں۔ چھوٹی چھوٹی احتیاطیں طویل مدت میں صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس لیے جہاں ممکن ہو، خاص طور پر زیادہ گرم یا چکنائی والی غذا کے لیے، شیشہ یا سیرامک برتن اختیار کرنا بہتر انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ یوں ہم سہولت کے ساتھ ساتھ احتیاط کو بھی ساتھ لے کر چل سکتے ہیں۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.