اکثر لوگ عیش و عشرت کا تصور کرتے ہیں تو ذہن میں مہنگے پرفیوم، نایاب گھڑیاں یا کئی دہائیوں پرانی شراب آتی ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہی چیزیں دنیا کی سب سے قیمتی اشیا ہیں۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ حیران کن ہے۔ دنیا کا سب سے مہنگا مائع نہ تو کسی فیشن ہاؤس سے تعلق رکھتا ہے اور نہ ہی کسی شاہانہ تقریب سے۔ یہ ایک نہایت خطرناک مگر قیمتی مادہ ہے، اور وہ ہے بچھو کا زہر۔
بچھو کا زہر سننے میں تو خوفناک لگتا ہے، مگر اس کی قیمت سن کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ ایک گیلن بچھو کے زہر کی قیمت کروڑوں ڈالر تک پہنچ جاتی ہے، جو کسی بھی دوسرے مائع سے کہیں زیادہ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایک زہریلا مادہ اتنا مہنگا کیوں ہے؟ اس کی وجہ صرف اس کی خطرناکی نہیں بلکہ وہ پیچیدہ اور صبر آزما عمل ہے جس کے ذریعے اس زہر کو حاصل کیا جاتا ہے۔
بچھو سے زہر نکالنے کے عمل کو عام زبان میں “دودھ نکالنا” کہا جاتا ہے، مگر یہ کام نہایت نازک اور خطرناک ہوتا ہے۔ ایک تربیت یافتہ ماہر بچھو کو خاص انداز میں پکڑ کر اس کے ڈنک سے زہر کی ایک معمولی سی بوند حاصل کرتا ہے۔ یہ بوند اتنی چھوٹی ہوتی ہے کہ ننگی آنکھ سے بمشکل نظر آئے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایک بچھو سے ایک وقت میں صرف اتنی ہی مقدار حاصل کی جا سکتی ہے۔
Read This also
بادلوں سے اونچا پل: ملاؤ ویاڈکٹ، انسان کی ہمت کا شاہکار
اگر حساب لگایا جائے تو ایک پورا گیلن بھرنے کے لیے ایک ہی بچھو سے لاکھوں بار زہر نکالنا پڑے گا۔ یعنی ایک بچھو زندگی بھر میں بھی اتنا زہر پیدا نہیں کر سکتا کہ ایک بوتل بھر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مادے کی دستیابی انتہائی محدود ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ہر بار یہ عمل انسانی جان کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، کیونکہ ذرا سی غفلت شدید نقصان یا موت کا سبب بن سکتی ہے۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ اصل وجہ جس کی بنا پر بچھو کا زہر اتنا قیمتی ہے، وہ اس کی طبی اہمیت ہے۔ بچھو کے زہر میں ایسے خاص پروٹین اور کیمیائی مرکبات پائے جاتے ہیں جو جدید طب کے لیے نہایت قیمتی ثابت ہو رہے ہیں۔ سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے کہ اس زہر میں موجود کچھ اجزا انسانی جسم میں حیرت انگیز انداز میں کام کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر کینسر کے علاج میں بچھو کے زہر سے تیار ہونے والا ایک خاص مادہ استعمال کیا جا رہا ہے، جسے بعض ماہرین “ٹیومر پینٹ” کہتے ہیں۔ یہ مادہ کینسر کے خلیات کو نمایاں کر دیتا ہے، جس سے سرجن کو آپریشن کے دوران یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ کون سا ٹشو متاثرہ ہے اور کون سا صحت مند۔ اس طرح صحت مند خلیات کو نقصان پہنچنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ بچھو کے زہر پر ملیریا جیسے خطرناک مرض کے علاج کے حوالے سے بھی تحقیق جاری ہے۔ ابتدائی نتائج نے ماہرین کو امید دلائی ہے کہ یہ زہر مستقبل میں ایسی دواؤں کی بنیاد بن سکتا ہے جو موجودہ علاج سے زیادہ مؤثر اور کم نقصان دہ ہوں۔ اسی طرح خود کار قوتِ مدافعت سے متعلق بیماریوں میں بھی اس زہر کے اجزا پر تجربات کیے جا رہے ہیں۔
یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ جس چیز کو ہم فطرت کا مہلک ہتھیار سمجھتے ہیں، وہی چیز انسانیت کے لیے زندگی بچانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ بچھو کا زہر دراصل ایک مکمل حیاتیاتی دوا خانہ ہے، جہاں ہر قطرے میں کئی راز چھپے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تحقیقاتی ادارے اور دوا ساز کمپنیاں اس کے لیے بھاری رقم ادا کرنے کو تیار رہتی ہیں۔
بچھو کے زہر کی تیاری، ذخیرہ اور استعمال کے لیے سخت قوانین اور جدید سہولیات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے عام حالات میں محفوظ رکھنا ممکن نہیں، کیونکہ ذرا سی غلطی بڑے حادثے کا باعث بن سکتی ہے۔ یہی عوامل اس کی قیمت کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ کم مقدار، زیادہ خطرہ، اور بے پناہ طبی اہمیت، یہ سب مل کر اسے دنیا کا سب سے مہنگا مائع بناتے ہیں۔
آخرکار، بچھو کا زہر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ فطرت میں موجود ہر چیز محض اچھی یا بری نہیں ہوتی۔ کبھی کبھار سب سے خطرناک چیز ہی سب سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ جس زہر سے انسان خوف کھاتا ہے، وہی زہر مستقبل میں کینسر، ملیریا اور دیگر جان لیوا بیماریوں کے خلاف سب سے طاقتور ہتھیار بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچھو کا زہر آج سونے سے بھی زیادہ قیمتی سمجھا جاتا ہے، اور آنے والے وقت میں اس کی اہمیت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
.png)