جاپان کے صوبہ شیزوکا کے پہاڑی علاقے میں ایک ایسا پل موجود ہے جو صرف آمدورفت کا ذریعہ نہیں بلکہ انجینئرنگ، خوبصورتی اور فطرت کے باہمی احترام کی زندہ مثال ہے۔ اس پل کا نام کاوازو نانادارو لوپ برج ہے۔ پہلی نظر میں یہ پل کسی دیو ہیکل کنکریٹ کے چشمے یا گھومتی ہوئی بھول بھلیاں جیسا محسوس ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک نہایت ذہین حل ہے جو پہاڑوں کے درمیان موجود ایک خطرناک عمودی ڈھلوان کو محفوظ اور ہموار راستے میں بدل دیتا ہے۔
اس علاقے میں مسئلہ یہ تھا کہ سڑک کو تقریباً پینتالیس میٹر کی بلندی ایک ہی جگہ پر کم کرنی تھی۔ عام طور پر ایسی جگہوں پر تیز موڑ والی خطرناک سڑکیں بنائی جاتی ہیں، جن پر گاڑی چلانا خاص طور پر بارش یا برفباری میں جان جوکھم کا کام بن جاتا ہے۔ جاپانی انجینئروں نے اس روایتی طریقے کو اپنانے کے بجائے ایک بالکل نیا راستہ چنا۔ انہوں نے سڑک کو سیدھا نیچے اتارنے کے بجائے دو بڑے گول دائروں میں لپیٹ دیا، جس سے ایک ڈبل اسپائرل، یعنی دوہرا گھومتا ہوا پل وجود میں آیا۔
یہ پل دراصل ایک بہت بڑے کنکریٹ کے پیچ کی طرح ہے، جس پر گاڑیاں آہستہ آہستہ گھومتے ہوئے نیچے کی طرف اترتی ہیں۔ جیسے ہی کوئی ڈرائیور اس پل پر داخل ہوتا ہے، اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ کسی عام سڑک پر نہیں بلکہ ایک منفرد تجربے کا حصہ بن رہا ہے۔ گاڑی ایک خاص ردھم کے ساتھ گھومتی ہے، نہ اچانک موڑ، نہ خطرناک ڈھلوان۔ رفتار خود بخود متوازن رہتی ہے، اور سفر حیرت انگیز حد تک پرسکون محسوس ہوتا ہے۔
Read This also
زہر جو سونے سے مہنگا ہے: بچھو کا وہ راز جو دوا بن گیا
اس پل کی کل لمبائی تقریباً 1.1 کلومیٹر ہے، مگر اس دوران گاڑی دو مکمل دائرے بناتی ہے۔ ہر موڑ پر منظر بدل جاتا ہے۔ کہیں سبز پہاڑ، کہیں گھنے درخت، اور کہیں دور تک پھیلا ہوا قدرتی حسن نظر آتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ڈرائیور کو نہ تو اونچائی کا خوف ستاتا ہے اور نہ ہی تیز ڈھلوان کی گھبراہٹ۔ سب کچھ اتنا ہموار اور متوازن ہے کہ یوں لگتا ہے جیسے سڑک خود گاڑی کو راستہ دکھا رہی ہو۔
کاوازو نانادارو لوپ برج صرف ایک تکنیکی حل نہیں بلکہ جمالیاتی لحاظ سے بھی بے مثال ہے۔ اس کے دونوں گول دائرے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ بنائے گئے ہیں۔ اوپر سے دیکھیں تو یہ پل کسی فنکار کے ہاتھ سے بنے ہوئے خاکے جیسا لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پل صرف مقامی لوگوں کے لیے نہیں بلکہ سیاحوں کے لیے بھی ایک خاص کشش رکھتا ہے۔ بہت سے لوگ یہاں صرف اس پل پر گاڑی چلانے کے تجربے کے لیے آتے ہیں۔
اس منصوبے کی ایک اور قابلِ تعریف بات یہ ہے کہ اس میں ماحول کو نقصان پہنچانے سے حتی الامکان بچا گیا۔ اگر یہاں روایتی تیز موڑ والی سڑک بنائی جاتی تو پہاڑ کا بڑا حصہ کاٹنا پڑتا، درخت ختم ہوتے اور قدرتی منظر بری طرح متاثر ہوتا۔ مگر اس لوپ برج کی بدولت زمین کو کم سے کم چھیڑا گیا۔ سڑک کو پہاڑ میں زبردستی گھسانے کے بجائے، اسے فضا میں گھما کر نیچے اتارا گیا، جس سے قدرتی حسن محفوظ رہا۔
یہ پل کاوازو سیون واٹر فالز کے قریب واقع ہے، جو خود ایک مشہور قدرتی مقام ہے۔ یہاں آنے والے سیاح اکثر آبشاروں کے ساتھ ساتھ اس پل کو بھی اپنی فہرست میں شامل کرتے ہیں۔ یوں یہ پل صرف راستہ نہیں بلکہ سیاحت کا حصہ بن چکا ہے۔ کئی لوگ یہاں رک کر تصاویر لیتے ہیں، ویڈیوز بناتے ہیں اور اس انجینئرنگ کے شاہکار کو قریب سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جاپان میں انفراسٹرکچر کو ہمیشہ محض ضرورت کے طور پر نہیں دیکھا جاتا بلکہ اسے ایک ذمہ داری اور فن کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ کاوازو نانادارو لوپ برج اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہاں مقصد صرف گاڑیوں کو نیچے اتارنا نہیں تھا بلکہ یہ دکھانا بھی تھا کہ اگر سوچ درست ہو تو سڑکیں بھی خوبصورت ہو سکتی ہیں۔ یہ پل اس بات کا ثبوت ہے کہ انجینئرنگ اور فطرت ایک دوسرے کے دشمن نہیں بلکہ ساتھی بن سکتے ہیں۔
اس پل پر سفر کرتے ہوئے اکثر ڈرائیور کہتے ہیں کہ انہیں وقت کا اندازہ ہی نہیں رہتا۔ گھومتی ہوئی سڑک، باہر کے مناظر، اور گاڑی کی مسلسل مگر نرم حرکت ایک عجیب سا سکون پیدا کرتی ہے۔ یہ وہ تجربہ ہے جو عام شاہراہوں پر ممکن نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس پل کو جاپان کے منفرد اور یادگار راستوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
کاوازو نانادارو لوپ برج ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ مسائل کا حل ہمیشہ سیدھا یا سخت نہیں ہونا چاہیے۔ کبھی کبھی مسئلے کے گرد گھوم کر جانا ہی سب سے بہتر راستہ ہوتا ہے۔ پینتالیس میٹر کی خطرناک بلندی کو ایک نرم اور محفوظ سفر میں بدل دینا کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ انسانی ذہانت، منصوبہ بندی اور صبر کا نتیجہ ہے۔
آخر میں، یہ پل صرف کنکریٹ اور اسٹیل کا ڈھانچہ نہیں بلکہ ایک خیال ہے۔ ایک ایسا خیال جو کہتا ہے کہ ترقی اگر سمجھداری سے کی جائے تو وہ قدرت کو نقصان پہنچائے بغیر بھی ممکن ہے۔ کاوازو نانادارو لوپ برج جاپان کے اندرونی علاقوں کی سیر کرنے والوں کے لیے ایک لازمی مقام بن چکا ہے، جہاں سفر خود منزل کا حصہ بن جاتا ہے۔
.png)