اگر سب لوگ ایک ہی طرح سوچ رہے ہوں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سب بہت سمجھدار ہیں، بلکہ اکثر اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی بھی حقیقت میں سوچ نہیں رہا۔”
یہ جملہ سننے میں سادہ لگتا ہے، مگر اپنے اندر ایک گہرا اور چونکا دینے والا پیغام رکھتا ہے۔ یہ ہمیں ہماری روزمرہ زندگی، ہمارے فیصلوں اور ہمارے معاشرتی رویّوں پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ دراصل یہ قول انسان کو ہجوم کی نفسیات سے باہر نکلنے کی دعوت دیتا ہے۔
اکثر ہم یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اگر زیادہ لوگ کسی ایک بات پر متفق ہیں، تو وہ بات لازماً درست ہوگی۔ ہم بغیر سوال کیے، بغیر سوچے، صرف اس لیے کسی رائے کو مان لیتے ہیں کہ “سب یہی کہہ رہے ہیں”۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سوچ رک جاتی ہے۔ انسان بول تو رہا ہوتا ہے، رائے دے تو رہا ہوتا ہے، مگر اس کی اپنی عقل خاموش ہو چکی ہوتی ہے۔
اندھی تقلید کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان اپنی ذمہ داری دوسروں پر ڈال دیتا ہے۔ وہ یہ سوچ کر مطمئن ہو جاتا ہے کہ اگر سب یہی کر رہے ہیں تو غلطی بھی سب کی ہوگی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ غلط فیصلوں کا بوجھ بھی آخرکار فرد ہی اٹھاتا ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بڑے بڑے سانحات اکثر اسی وقت جنم لیتے ہیں جب لوگ سوال کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔
اختلافِ رائے کو ہمارے معاشرے میں اکثر بغاوت یا بدتمیزی سمجھا جاتا ہے۔ بچپن سے ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ بڑوں سے سوال نہ کرو، استاد کی بات نہ کاٹو، اکثریت کے خلاف نہ جاؤ۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم اختلاف کو خطرہ سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
مشہور فوجی جنرل جارج پیٹن کا ماننا تھا کہ بہترین فیصلے اس وقت سامنے آتے ہیں جب مختلف خیالات آپس میں ٹکراتے ہیں۔ جب ایک کمرے میں بیٹھے سب لوگ ایک ہی بات پر فوراً متفق ہو جائیں، تو یہ کسی کامیابی کی علامت نہیں بلکہ ایک خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی نے بھی متبادل راستوں، ممکنہ نقصانات یا چھپے ہوئے مسائل پر غور نہیں کیا۔
ترقی ہمیشہ سوال سے جنم لیتی ہے۔ اگر انسان نے کبھی سوال نہ اٹھایا ہوتا، تو شاید آج بھی زمین کو کائنات کا مرکز سمجھا جا رہا ہوتا۔ اگر کسی نے روایت سے ہٹ کر سوچنے کی ہمت نہ کی ہوتی، تو سائنس، طب، فلسفہ اور ٹیکنالوجی کبھی آگے نہ بڑھ پاتے۔
جب معاشرہ اختلاف کو دبانا شروع کر دیتا ہے تو جمود پیدا ہو جاتا ہے۔ لوگ نئی بات کرنے سے ڈرنے لگتے ہیں۔ وہ یہ سوچ کر خاموش رہتے ہیں کہ کہیں انہیں تنقید کا نشانہ نہ بنایا جائے، کہیں انہیں باغی یا منفی نہ سمجھ لیا جائے۔ یوں آہستہ آہستہ تخلیقی سوچ مرنے لگتی ہے اور معاشرہ صرف پرانی لکیر پیٹتا رہ جاتا ہے۔
سوچنے کا مطلب صرف مخالفت کرنا نہیں ہوتا، بلکہ سوال اٹھانا، دلیل مانگنا اور مختلف زاویوں سے کسی معاملے کو دیکھنا ہوتا ہے۔ ایک صحت مند معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں لوگ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی بات سننے کو تیار ہوں۔ جہاں خاموشی کو دانائی اور ہاں میں ہاں ملانے کو شرافت نہ سمجھا جائے۔
یہ جملہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ اپنی عقل استعمال کرنا ایک ذمہ داری ہے، صرف حق نہیں۔ اگر ہم نے سوچنا چھوڑ دیا تو کوئی اور ہمارے لیے سوچے گا، اور پھر وہ سوچ ہمارے فائدے کے بجائے کسی اور کے مفاد میں ہو سکتی ہے۔
انفرادیت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر حال میں سب سے مختلف بننے کی کوشش کی جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی رائے خود بنائی جائے، چاہے وہ اکثریت سے ملتی ہو یا نہ ملتی ہو۔ اصل فرق نیت اور طریقۂ سوچ کا ہوتا ہے، نہ کہ نتیجے کا۔
آخر میں، یہ قول ہمیں ایک سادہ مگر طاقتور سبق دیتا ہے: ہجوم کا حصہ بننا آسان ہے، مگر خود سوچنا ہمت مانگتا ہے۔ دنیا کو آگے بڑھانے والے ہمیشہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو سوال کرتے ہیں، اختلاف کرتے ہیں اور روایتی سوچ سے ہٹ کر راستہ بنانے کی جرات رکھتے ہیں۔ سچی ذہانت خاموش اتفاق میں نہیں، بلکہ باشعور اختلاف میں چھپی ہوتی ہے۔
.png)