زمین سے خلا تک وار — چین کی خطرناک مائیکروویو ٹیکنالوجی

زمین سے خلا تک وار — چین کی خطرناک مائیکروویو ٹیکنالوجی

حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں عسکری اور خلائی ٹیکنالوجی غیر معمولی رفتار سے ترقی کر رہی ہے۔ خاص طور پر وہ ٹیکنالوجیز جو روایتی ہتھیاروں کے بجائے توانائی کی طاقت پر کام کرتی ہیں، عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ اسی تناظر میں چین سے ایک ایسی پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے ماہرینِ دفاع اور خلائی سکیورٹی کے حلقوں میں خاصی تشویش پیدا کر دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق چین میں محققین کی ایک ٹیم نے ایک جدید اور نہایت طاقتور مائیکروویو نظام کا ایک بنیادی جزو تیار کر لیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی زمین سے ہی سیٹلائٹس کو متاثر کرنے یا حتیٰ کہ ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگرچہ اس نظام کو باضابطہ طور پر ہتھیار قرار نہیں دیا گیا، مگر اس کی خصوصیات اسے ایک خطرناک عسکری ٹیکنالوجی کے قریب لے جاتی ہیں۔

یہ تحقیق چین کے شہر شی آن میں واقع نارتھ ویسٹ انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر ٹیکنالوجی میں کی گئی ہے۔ اس ادارے سے وابستہ سائنس دانوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ایک ایسا کمپیکٹ نظام تیار کیا ہے جو مسلسل ایک منٹ تک 20 گیگاواٹ توانائی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ کامیابی اس لیے غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ ماضی میں ہائی پاور مائیکروویو نظام چند سیکنڈ سے زیادہ کام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔

عام طور پر اس نوعیت کے مائیکروویو سسٹمز زیادہ دیر تک چلنے کی صورت میں خود ہی غیر مستحکم ہو جاتے ہیں یا ان کے اندر موجود پرزے شدید حرارت کی وجہ سے ناکارہ ہو جاتے ہیں۔ مگر چینی محققین نے اس مسئلے پر قابو پا کر توانائی کے تسلسل کو حیرت انگیز حد تک بڑھا دیا ہے، جو ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔

اس نئے تیار کردہ سسٹم کو TPG1000C کا نام دیا گیا ہے۔ محققین کے مطابق یہ دنیا کا پہلا ایسا کمپیکٹ ڈرائیور ہے جو ہائی پاور مائیکروویو ہتھیاروں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو نسبتاً چھوٹے پلیٹ فارمز پر بھی نصب کیا جا سکتا ہے، جو اسے مزید مؤثر اور خطرناک بنا دیتا ہے۔

ہائی پاور مائیکروویو ٹیکنالوجی دراصل ڈائریکٹڈ انرجی سسٹمز کا حصہ ہے۔ یہ وہ نظام ہوتے ہیں جو بارود یا دھماکہ خیز مواد کے بجائے مرتکز برقی مقناطیسی لہروں کا استعمال کرتے ہیں۔ ایسی لہریں کسی ہدف پر پہنچ کر اس کے الیکٹرانک نظام کو مفلوج کر سکتی ہیں، بغیر کسی ظاہری دھماکے یا آواز کے۔

ماہرین کے مطابق اگر اس طرح کی مائیکروویو لہریں سیٹلائٹس پر مرکوز کر دی جائیں تو وہ ان کے حساس الیکٹرانک سرکٹس کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں مواصلاتی نظام، نیویگیشن، موسم کی پیش گوئی اور حتیٰ کہ فوجی نگرانی کے سیٹلائٹس بھی ناکارہ ہو سکتے ہیں۔ جدید دنیا میں جہاں زیادہ تر نظام خلائی انفراسٹرکچر پر انحصار کرتے ہیں، یہ ایک نہایت سنجیدہ خطرہ ہے۔

اگرچہ چینی حکام کی جانب سے اس ٹیکنالوجی کو کسی عملی عسکری منصوبے کا حصہ قرار نہیں دیا گیا، لیکن عالمی ماہرین اسے محض ایک سائنسی تجربہ ماننے کو تیار نہیں۔ ان کے نزدیک یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ مستقبل کی جنگیں زمین پر نہیں بلکہ خلا میں بھی لڑی جا سکتی ہیں۔

خلائی طاقت بننے کی دوڑ پہلے ہی امریکہ، چین، روس اور دیگر ممالک کے درمیان جاری ہے۔ ایسے میں سیٹلائٹس کو نشانہ بنانے والی ٹیکنالوجی نہ صرف دفاعی توازن کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی نئے سوالات کھڑے کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پیش رفت کو سائنسی کامیابی کے ساتھ ساتھ ایک اسٹریٹجک چیلنج کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں غیر عسکری مقاصد کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے، جیسے انتہائی طاقتور توانائی کے تجربات یا سائنسی تحقیق۔ تاہم، جب تک اس کے عسکری امکانات موجود ہیں، عالمی سطح پر اس پر تشویش برقرار رہے گی۔

مختصر یہ کہ چین میں تیار کیا گیا یہ مائیکروویو نظام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ توانائی پر مبنی ہتھیار اب محض تصور نہیں رہے۔ یہ ٹیکنالوجی مستقبل کی جنگوں، خلائی سکیورٹی اور عالمی طاقت کے توازن کو یکسر تبدیل کر سکتی ہے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.