آج دنیا بھر میں مادری زبانوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے عالمی یومِ مادری زبان منایا جا رہا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زبان صرف گفتگو کا ذریعہ نہیں بلکہ ہماری شناخت، تاریخ اور ثقافتی ورثے کی بنیاد ہے۔ کسی بھی قوم کی روایات، کہانیاں، لوک گیت اور اقدار اسی کی زبان میں محفوظ رہتی ہیں۔ اگر کوئی زبان کمزور پڑ جائے تو اس کے ساتھ ایک پورا ثقافتی خزانہ بھی دھندلا ہونے لگتا ہے۔
یہ دن سب سے پہلے UNESCO کی جانب سے متعارف کرایا گیا تاکہ دنیا کو لسانی تنوع کی اہمیت کا احساس دلایا جا سکے۔ اس وقت دنیا میں ہزاروں زبانیں بولی جاتی ہیں، مگر ماہرین کے مطابق ہر چند ہفتوں میں ایک زبان ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور عالمی رابطوں نے بڑی زبانوں کو تو مضبوط کیا ہے، لیکن چھوٹی اور مقامی زبانیں بتدریج پیچھے رہ رہی ہیں۔
کئی معاشروں میں نئی نسل اپنی مادری زبان بولنے میں کم دلچسپی دکھاتی ہے، جس کی ایک وجہ معاشی مواقع اور تعلیمی دباؤ بھی ہے۔ حالانکہ اپنی زبان سیکھنا اور بولنا کسی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا بلکہ شخصیت کو مضبوط بناتا ہے۔ گھر اور اسکول اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر بچوں کو بچپن سے اپنی زبان میں کہانیاں سنائی جائیں اور مقامی ادب سے روشناس کرایا جائے تو وہ اس ورثے سے جڑے رہتے ہیں۔
زبانوں کا احترام دراصل ایک دوسرے کے وجود کا احترام ہے۔ مختلف زبانیں سیکھنا ہمارے علم اور سوچ کو وسیع کرتا ہے۔ آج کے دن ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنی مادری زبان کو زندہ رکھیں گے اور دوسروں کی زبانوں کی قدر بھی کریں گے، تاکہ ہماری ثقافتی پہچان آنے والی نسلوں تک محفوظ رہ سکے۔
