اگر موت زندگی کی آخری سچائی ہے تو پھر ایک ننھی سی جیلی فش ایسی کیوں ہے جو بڑھاپے سے نہیں مرتی؟ سمندروں میں پائی جانے والی ایک خاص قسم، Turritopsis dohrnii، کو اکثر “امر جیلی فش” کہا جاتا ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ جب یہ بوڑھی ہونے لگتی ہے یا کمزور پڑ جاتی ہے تو عام جانداروں کی طرح ختم نہیں ہوتی، بلکہ اپنے جسم کو دوبارہ بچپن کی حالت میں لے جاتی ہے۔ یوں اس کا حیاتیاتی چکر ایک بار پھر شروع ہو جاتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ عمل محض کہانی نہیں بلکہ ایک ثابت شدہ حیاتیاتی حقیقت ہے۔ جب اس جیلی فش کو لیبارٹری میں رکھا گیا اور اسے بھوک، روشنی کے دباؤ یا معمولی چوٹ جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑا تو حیران کن نتیجہ سامنے آیا۔ مرنے کے بجائے یہ سکڑ کر سمندر کی تہہ یا برتن کے نچلے حصے میں چپک گئی۔ اس کے بعد اس کے خلیوں میں اندرونی سطح پر تبدیلی شروع ہوئی۔ چند دنوں میں وہ دوبارہ پولِپ مرحلے میں چلی گئی، جو اس کی ابتدائی یا بچپن کی حالت سمجھی جاتی ہے۔
یہ دریافت 1990 کی دہائی میں سامنے آئی جب اطالوی سائنس دان Fernando Boero جیلی فش پر تحقیق کر رہے تھے۔ انہوں نے سمندر سے چند ننھی جیلی فش پکڑ کر تجربہ گاہ میں رکھیں۔ وقت کے ساتھ کچھ جیلی فش مر گئیں، جبکہ کچھ بظاہر تحلیل ہو کر غائب ہو گئیں۔ ابتدا میں ماہرین نے سمجھا کہ شاید وہ ختم ہو چکی ہیں، لیکن بار بار تجربات کرنے کے بعد پتا چلا کہ وہ دراصل مر نہیں رہیں بلکہ اپنی شکل بدل رہی ہیں۔ وہ دوبارہ ابتدائی مرحلے میں جا کر نئی زندگی کا آغاز کر دیتی ہیں۔
یہ عمل دراصل خلیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے، جسے سادہ الفاظ میں یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اس کے بالغ خلیے دوبارہ کم عمر خلیوں جیسی خصوصیات اختیار کر لیتے ہیں۔ یعنی وہ اپنی زندگی کا پہیہ الٹا گھما سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے حیاتیاتی طور پر “امر” کہا جاتا ہے، کیونکہ نظریاتی طور پر یہ بڑھاپے کی وجہ سے نہیں مرتی۔ تاہم یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ یہ مکمل طور پر ناقابلِ موت نہیں۔ اگر اسے کسی شکاری نے کھا لیا یا شدید بیماری لاحق ہو گئی تو یہ مر سکتی ہے۔
ایک اور حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ جب یہ پولِپ مرحلے میں واپس جاتی ہے تو بعض اوقات صرف ایک جیلی فش کے بجائے کئی نئی جیلی فش پیدا ہو سکتی ہیں۔ یعنی ایک ہی جاندار سے پوری کالونی وجود میں آ سکتی ہے۔ یوں یہ نہ صرف اپنی زندگی کو دہرا سکتی ہے بلکہ اپنی تعداد بھی بڑھا سکتی ہے۔ اس صلاحیت نے سائنس دانوں کو خلیاتی عمر رسیدگی اور ری جنریشن کے بارے میں نئی سوچ دی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس جیلی فش کا سائز بہت چھوٹا ہوتا ہے، تقریباً چار سے پانچ ملی میٹر، یعنی چاول کے دانے یا ناخن کے سرے جتنا۔ ویڈیوز یا تصاویر میں اسے بڑا دکھایا جاتا ہے تاکہ اس کا عمل آسانی سے سمجھایا جا سکے۔ سمندر کی وسیع دنیا میں یہ ایک نہایت معمولی سی مخلوق نظر آتی ہے، مگر اس کے اندر چھپا حیاتیاتی راز غیر معمولی ہے۔
سائنس دان ابھی تک انسانوں پر ایسا کوئی تجربہ کامیابی سے نہیں کر سکے۔ انسانوں میں بڑھاپا ایک پیچیدہ عمل ہے جس میں بے شمار عوامل شامل ہوتے ہیں۔ تاہم اس جیلی فش کی صلاحیت نے عمر رسیدگی سے متعلق تحقیق میں نئی امید ضرور پیدا کی ہے۔ اگرچہ ہم اسے کسی معجزے کا نام دے سکتے ہیں، مگر ماہرین کے نزدیک یہ قدرت کے بنائے ہوئے ایک سائنسی نظام کا نتیجہ ہے۔
یوں سمندر کی گہرائیوں میں تیرتی یہ ننھی سی مخلوق ہمیں یاد دلاتی ہے کہ فطرت میں ایسے راز پوشیدہ ہیں جو انسانی سوچ سے کہیں آگے ہیں۔ ایک طرف زندگی اور موت کا ازلی سوال، اور دوسری طرف ایک جاندار جو اپنے وقت کو پلٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ کہانی حیرت بھی ہے اور تحقیق کا دروازہ بھی۔
