اینڈرائیڈ کا ایئرڈراپ: فائل شیئرنگ میں ایک نیا دور


اینڈرائیڈ استعمال کرنے والوں کے لیے ٹیکنالوجی کی دنیا سے ایک نہایت اہم اور خوش آئند خبر سامنے آئی ہے۔ گوگل نے باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ وہ ایئرڈراپ جیسی فائل شیئرنگ سہولت کو تمام اینڈرائیڈ ڈیوائسز پر متعارف کروانے جا رہا ہے۔ یہ وہ فیچر ہے جس کا اینڈرائیڈ صارفین برسوں سے انتظار کر رہے تھے، کیونکہ اب تک تیز، آسان اور وائرلیس فائل شیئرنگ کے معاملے میں ایپل کو سبقت حاصل تھی۔

اب تک اینڈرائیڈ صارفین کو تصاویر، ویڈیوز، ڈاکیومنٹس یا دیگر فائلیں بھیجنے کے لیے مختلف تھرڈ پارٹی ایپس کا سہارا لینا پڑتا تھا۔ کبھی بلوٹوتھ، کبھی ای میل، اور کبھی کلاؤڈ سروسز۔ یہ تمام طریقے یا تو سست تھے، یا ان میں انٹرنیٹ کی ضرورت پڑتی تھی۔ اس کے مقابلے میں ایپل کا ایئرڈراپ ایک ایسا سادہ اور تیز حل تھا جس کے ذریعے چند سیکنڈز میں فائل ایک ڈیوائس سے دوسری ڈیوائس میں منتقل ہو جاتی تھی۔ اب گوگل اسی خلا کو پُر کرنے جا رہا ہے۔

گوگل کے مطابق یہ نیا فائل شیئرنگ فیچر صرف اینڈرائیڈ سے اینڈرائیڈ تک محدود نہیں ہوگا، بلکہ اسے اس طرح ڈیزائن کیا جا رہا ہے کہ وہ ایپل ڈیوائسز جیسے آئی فون، آئی پیڈ اور میک کے ساتھ بھی کام کر سکے۔ اگر یہ دعویٰ عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی، کیونکہ پہلی بار دونوں بڑے ایکو سسٹمز کے درمیان براہِ راست اور آسان فائل شیئرنگ ممکن ہو سکے گی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فیچر کی ابتدائی شکل پہلے ہی چند مخصوص گوگل پکسل فونز پر متعارف کروائی جا چکی تھی، مگر اس وقت اسے محدود پیمانے پر رکھا گیا تھا۔ بہت سے صارفین یہ سمجھ رہے تھے کہ شاید یہ سہولت ہمیشہ صرف پکسل ڈیوائسز تک ہی محدود رہے گی، لیکن اب گوگل نے واضح کر دیا ہے کہ ابتدا سے ہی اس کا مقصد تمام اینڈرائیڈ صارفین تک اس سہولت کو پہنچانا تھا۔

اینڈرائیڈ کے وائس پریزیڈنٹ آف انجینئرنگ کے مطابق گوگل اس وقت مختلف موبائل کمپنیوں اور ہارڈویئر پارٹنرز کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ یہ فیچر ہر قسم کے اینڈرائیڈ فونز، ٹیبلٹس اور دیگر ڈیوائسز پر یکساں طور پر کام کر سکے۔ اس میں سام سنگ، شیاؤمی، اوپو، ویوو اور دیگر بڑے برانڈز شامل ہو سکتے ہیں، تاکہ صارف کو کسی خاص کمپنی کا فون رکھنے کی شرط نہ ہو۔

اس فیچر کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ فائل شیئرنگ پہلے سے کہیں زیادہ تیز، محفوظ اور آسان ہو جائے گی۔ صارفین کو نہ تو کسی اکاؤنٹ میں لاگ ان ہونے کی ضرورت ہوگی اور نہ ہی کسی اضافی ایپ کو انسٹال کرنا پڑے گا۔ چند ٹیپس میں فائل سامنے والے شخص کے فون پر پہنچ جائے گی، بالکل اسی طرح جیسے ایئرڈراپ میں ہوتا ہے۔

مزید یہ کہ اس سے پرائیویسی اور سیکیورٹی کے معاملات بھی بہتر ہونے کی توقع ہے۔ چونکہ فائل براہِ راست قریبی ڈیوائس کو بھیجی جائے گی، اس لیے ڈیٹا کسی تیسرے سرور پر اپلوڈ نہیں ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ذاتی تصاویر، اہم ڈاکیومنٹس اور ویڈیوز زیادہ محفوظ رہیں گی۔

گوگل کا کہنا ہے کہ رواں سال کے دوران اس حوالے سے مزید اپڈیٹس سامنے آئیں گی، اور مرحلہ وار اس فیچر کو مختلف علاقوں میں فعال کیا جائے گا۔ ابتدا میں ممکن ہے کہ یہ سہولت محدود ڈیوائسز پر دستیاب ہو، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اسے تمام اینڈرائیڈ صارفین کے لیے عام کر دیا جائے گا۔

اگر یہ فیچر کامیابی سے لانچ ہو جاتا ہے تو اینڈرائیڈ اور ایپل صارفین کے درمیان فاصلہ مزید کم ہو جائے گا۔ اب تک دونوں پلیٹ فارمز کے درمیان فائل شیئرنگ ایک بڑا مسئلہ رہی ہے، مگر اس نئے قدم کے بعد یہ رکاوٹ بڑی حد تک ختم ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی تھرڈ پارٹی ایپس کی اہمیت بھی کم ہو جائے گی، کیونکہ صارفین کو اب ایک بلٹ اِن، تیز اور قابلِ اعتماد حل میسر ہوگا۔

مختصر یہ کہ گوگل کا یہ فیصلہ اینڈرائیڈ صارفین کے لیے ایک بڑی سہولت ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ نہ صرف روزمرہ استعمال کو آسان بنائے گا بلکہ مختلف ڈیوائسز کے درمیان ہم آہنگی کو بھی بہتر کرے گا۔ آنے والے مہینے اس حوالے سے نہایت اہم ہوں گے، کیونکہ یہی طے کریں گے کہ یہ فیچر عملی طور پر کتنا مؤثر ثابت ہوتا ہے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.