یہ کہانی صرف ایک ماں کی تدفین یا دو بھائیوں کے درمیان فرق کی نہیں، بلکہ اس خاموش سچ کی ہے جو اکثر خاندانوں میں نظر انداز ہو جاتا ہے۔ یہ اس فرق کی کہانی ہے جو پیسے بھیجنے اور زندگی قربان کرنے کے درمیان ہوتا ہے۔
میں اپنی ماں کے جنازے پر کھڑا تھا، تنِ بدن مہنگے اطالوی سوٹ میں ملبوس۔ جوتے چمک رہے تھے، گھڑی قیمتی تھی، اور جیب میں جدید ترین فون۔ لوگ تعزیت کر رہے تھے اور میں سر ہلا کر شکریہ ادا کر رہا تھا۔ میرے نزدیک میں ایک کامیاب بیٹا تھا۔ وہ بیٹا جو چھوٹے سے صنعتی قصبے سے نکل کر شکاگو کی ایک بڑی کمپنی میں نائب صدر بن چکا تھا۔
میرے برابر میں میرا چھوٹا بھائی ڈیوڈ کھڑا تھا۔ اس کی کالی ٹائی پرانی تھی، شاید برسوں پہلے کسی سستے اسٹور سے لی گئی ہو۔ اس کے کپڑے سادہ تھے، چہرہ تھکا ہوا، آنکھوں کے نیچے گہرے حلقے۔ وہ 32 برس کا تھا، مگر زندگی نے اسے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا تھا۔
پچھلے چھ سالوں سے میں خود کو “مثالی بیٹا” سمجھتا رہا۔ ہر مہینے وقت پر پیسے بھیجتا تھا۔ پندرہ سو ڈالر، ایک مقررہ تاریخ کو۔ میں فخر سے اپنی بیوی کو کہتا، “ماں کو کسی چیز کی کمی نہیں۔ میں سب سنبھال رہا ہوں۔” مجھے واقعی لگتا تھا کہ میں اپنا فرض پورا کر رہا ہوں۔
تدفین کے بعد ہم پرانے گھر پہنچے۔ جیسے ہی اندر قدم رکھا، میرے اندر کا منتظم جاگ اٹھا۔ میں نے لان کی حالت دیکھی، ٹوٹی نالیوں پر نظر پڑی، اور فوراً تنقید شروع کر دی۔ میں نے سوال کیا کہ گھر کی دیکھ بھال کیوں ٹھیک نہیں، ماں اتنی کمزور کیوں دکھائی دے رہی تھیں، اور وہ اضافی پیسے کہاں گئے جو میں نے خاص خوراک کے لیے بھیجے تھے۔
ڈیوڈ خاموش رہا۔ وہ کچن کی میز پر بیٹھا تھا۔ اس کی قمیض پرانے دنوں کی گواہ تھی، ہاتھ کانپ رہے تھے، انگلیاں سوجی ہوئی۔ وہ بالکل ٹوٹا ہوا لگ رہا تھا۔
میں نے اپنے کاروباری انداز میں بات جاری رکھی اور گھر بیچنے کی تجویز دی۔ میں نے یہاں تک کہا کہ چونکہ وہ یہاں رہا ہے، اس لیے زیادہ حصہ بھی اسی کا ہونا چاہیے۔ میں اندر ہی اندر اس بات پر مطمئن تھا کہ میں کتنا فیاض ہوں۔
مگر اس نے شکریہ ادا نہیں کیا۔
وہ اٹھا، دراز کھولی، اور ایک پرانی نوٹ بک میز پر رکھ دی۔ اس پر داغ تھے، جیسے کسی نے برسوں تک اسے دکھ کے ساتھ استعمال کیا ہو۔ اس نے بس اتنا کہا، “اسے پڑھ لو۔”
وہ ایک ڈائری تھی، مگر دراصل قربانیوں کی فہرست۔
ہر صفحہ ایک رات کی کہانی سنا رہا تھا۔ وہ راتیں جب ماں چیختی تھیں، اپنے ہی بیٹے کو اجنبی سمجھتی تھیں۔ وہ دن جب انشورنس نے مدد سے انکار کیا، اور ڈیوڈ نے اپنی گاڑی بیچ کر دوائیں خریدیں۔ وہ لمحے جب ماں کا دم گھٹنے لگا اور وہ کانپتے ہاتھوں سے انہیں تھامے ایمبولینس کا انتظار کرتا رہا۔ وہ راتیں جب پورا شہر جشن منا رہا تھا اور وہ گندی چادریں بدل رہا تھا، درد سے ٹوٹی کمر کے ساتھ فرش پر سو رہا تھا، صرف اس لیے کہ ماں اندھیرے سے ڈرتی تھیں۔
میں مزید نہ پڑھ سکا۔ گلا بند ہو گیا۔
ڈیوڈ نے میری طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں شکایت نہیں تھی، بس شدید تھکن تھی۔ اس نے کہا کہ میرے پیسوں کا وہ شکر گزار ہے، مگر میں سکون سے سوتا تھا، چھٹیاں مناتا تھا، بچوں کے ساتھ ہنستا تھا۔ اس کے حصے میں نیند، رشتہ، نوکری، سب قربان ہو چکے تھے۔
اس نے آہستہ سے کہا کہ پیسے وہ کام نہیں کر سکتے جو اس نے کیے۔ پیسے خوفزدہ ماں کا ہاتھ نہیں تھامتے، نہ ہی تلخ باتیں سہہ سکتے ہیں، نہ ہی رات کے سناٹے میں کسی انسان کی ٹوٹی ہوئی سانسوں کے ساتھ جاگ سکتے ہیں۔
پھر اس نے کہا کہ گھر بیچ دو، سارا پیسہ رکھ لو۔ اس کا حصہ وہ پہلے ہی ادا کر چکا ہے، اپنی زندگی سے۔
وہ صوفے پر گر کر سو گیا۔ شاید برسوں بعد پہلی بار۔
میں وہیں کھڑا رہا۔ میرے مہنگے سامان مجھے بے معنی لگنے لگے۔ اس دن مجھے فرق سمجھ آیا۔ میں صرف دور سے سہولت دینے والا تھا۔ وہ اصل بیٹا تھا۔
اسی دن میں نے فیصلہ بدل دیا۔ گھر اس کے نام کر دیا۔ پورا۔ یہ احسان نہیں تھا، بلکہ اس قرض کی ایک قسط تھی جو شاید کبھی پورا نہ ہو سکے۔
سبق:
اولاد کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو دور سے پیسے بھیجتی ہے، اور دوسری وہ جو قریب رہ کر بوجھ اٹھاتی ہے۔ محبت صرف رقم نہیں مانگتی، وقت، صبر اور خود کو بھلا دینے کا حوصلہ مانگتی ہے۔
اگر کبھی وراثت بانٹنے کا وقت آئے، تو صرف کاغذ نہیں دیکھنا، قربانیوں کو بھی تولنا۔ کیونکہ کچھ قرض ایسے ہوتے ہیں جو کسی رقم سے ادا نہیں ہوتے۔
