کئی برسوں تک مسافر جب جہاز میں بیٹھتے تو کاک پٹ سے آنے والی پُرسکون آواز پر مکمل اعتماد کرتے تھے۔ وردی پہنے وہ پائلٹ پیشہ ورانہ مہارت اور تجربے کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس اعتماد کے پیچھے ایک ایسا راز چھپا ہو سکتا ہے جو بعد میں سب کو حیران کر دے گا۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب جنوبی افریقہ کی قومی ایئرلائن South African Airways سے وابستہ ایک پائلٹ کے بارے میں انکشاف ہوا کہ وہ برسوں تک جعلی لائسنس کے سہارے طیارے اڑاتا رہا۔ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ اس کی اسناد مکمل طور پر درست نہیں تھیں، بلکہ ان میں جعل سازی شامل تھی۔ یہ خبر منظر عام پر آتے ہی فضائی شعبے میں ہلچل مچ گئی۔
ہوابازی ایسا شعبہ ہے جہاں ہر قدم احتیاط اور ضابطوں کے مطابق اٹھایا جاتا ہے۔ پائلٹس کی تربیت، میڈیکل معائنہ اور لائسنس کی جانچ پڑتال ایک سخت نظام کے تحت ہوتی ہے۔ ایسے میں یہ سوال اٹھنا فطری تھا کہ اتنے طویل عرصے تک یہ جعل سازی کیسے نظروں سے اوجھل رہی۔ کیا نگرانی کے نظام میں کوئی خلا تھا؟ کیا تصدیقی عمل میں کہیں کوتاہی ہوئی؟
حکام نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ معاملہ کس حد تک پھیلا ہوا تھا اور آئندہ ایسے واقعات سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ خوش قسمتی سے اس کیس میں کسی بڑے حادثے کی اطلاع نہیں ملی، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ اہم تھی کہ ایک شخص جعلی دستاویزات کے ساتھ حساس ذمہ داری انجام دیتا رہا۔
یہ واقعہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ ایک بڑے سبق کی نشاندہی کرتا ہے۔ اعتماد کسی بھی پیشے کی بنیاد ہوتا ہے، خاص طور پر وہاں جہاں انسانی جانیں داؤ پر لگی ہوں۔ جب لوگ جہاز میں سوار ہوتے ہیں تو وہ اپنی سلامتی مکمل طور پر عملے کے سپرد کر دیتے ہیں۔ اگر اس اعتماد میں ذرا سی دراڑ بھی پڑ جائے تو اس کے اثرات بہت دور تک جاتے ہیں۔
اس انکشاف کے بعد ہوابازی کے اداروں نے اپنے تصدیقی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ دستاویزات کی جانچ، پس منظر کی پڑتال اور لائسنس کی تصدیق جیسے مراحل کو مزید سخت بنانے پر غور کیا گیا۔ مقصد واضح تھا: ایسا کوئی خلا باقی نہ رہے جس سے کوئی شخص نظام کو دھوکا دے سکے۔
آخرکار یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سچائی وقتی طور پر چھپ سکتی ہے، مگر ہمیشہ کے لیے نہیں۔ ایک جھوٹ اگر برسوں تک بھی ساتھ چلتا رہے تو ایک دن حقیقت سامنے آ ہی جاتی ہے۔ اور جب سچ ظاہر ہوتا ہے تو وہ نہ صرف فرد کو بلکہ پورے نظام کو سوالوں کے گھیرے میں لے آتا ہے۔
دنیا بھر میں لاکھوں لوگ روزانہ پرواز کرتے ہیں۔ ان کے دل میں ایک بنیادی یقین ہوتا ہے کہ وہ محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ اس یقین کی حفاظت ہر ادارے کی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ دیانت بھی ضروری ہے، اور جب دونوں ساتھ ہوں تو ہی اعتماد قائم رہتا ہے۔
