کبھی کبھی زندگی کا سب سے قیمتی لمحہ وہ ہوتا ہے جب انسان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہوتا، مگر وہ پھر بھی سچائی کا راستہ چنتا ہے۔ ایک بے گھر شخص کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ اسے سڑک پر ایک منگنی کی انگوٹھی ملی جس کی قیمت تقریباً چار ہزار ڈالر تھی۔ اس کے حالات ایسے تھے کہ وہ چاہتا تو اسے بیچ کر اپنی کئی مشکلات آسان کر سکتا تھا۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔
اس شخص نے انگوٹھی اپنے پاس رکھنے کے بجائے اس کے اصل مالک کو واپس کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لیے یہ قدم آسان نہیں تھا، کیونکہ وہ خود مالی پریشانیوں کا شکار تھا۔ مگر اس نے وقتی فائدے کے بجائے دیانت کو ترجیح دی۔ جب انگوٹھی کی مالکہ کو اپنی قیمتی نشانی واپس ملی تو وہ حیران بھی تھی اور جذباتی بھی۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ آج کے دور میں کوئی اجنبی اتنی امانت داری دکھا سکتا ہے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا اور مقامی خبروں کے ذریعے لوگوں تک پہنچا تو ایک نیا منظر سامنے آیا۔ بہت سے افراد اس بے گھر شخص کی ایمانداری سے متاثر ہوئے۔ لوگوں نے مل کر اس کی مدد کے لیے چندہ جمع کرنا شروع کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے رقم بڑھتی گئی اور بالآخر تقریباً ایک لاکھ نوے ہزار ڈالر جمع ہو گئے۔ یہ رقم اس کی زندگی بدلنے کے لیے کافی تھی۔
یہ کہانی صرف ایک انگوٹھی کی واپسی کی نہیں، بلکہ انسانیت کی جیت کی داستان ہے۔ ایک چھوٹا سا نیک عمل دوسروں کے دلوں کو چھو سکتا ہے اور خیر کے دروازے کھول سکتا ہے۔ اکثر ہمیں لگتا ہے کہ دنیا خود غرضی سے بھری ہوئی ہے، مگر ایسے واقعات امید دلاتے ہیں کہ بھلائی ابھی زندہ ہے۔
اس شخص نے ثابت کیا کہ حالات چاہے کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، کردار کی مضبوطی سب سے بڑی دولت ہے۔ اس کے ایک سچے فیصلے نے ہزاروں لوگوں کو نیکی کی طرف مائل کیا۔ جب معاشرہ کسی اچھے عمل کو سراہتا ہے تو وہ پیغام دیتا ہے کہ ایمانداری بے فائدہ نہیں جاتی۔
آخرکار یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل دولت پیسہ نہیں، بلکہ اعتماد اور نیک نامی ہے۔ ایک معمولی سا قدم، اگر خلوص سے اٹھایا جائے، تو وہ دوسروں کے دلوں میں روشنی جگا سکتا ہے۔ اور یہی روشنی معاشرے کو بہتر بنانے کا اصل ذریعہ بنتی ہے۔
