سرحدوں سے بلند ایک معجزہ: افشین کی سیدھی ہوتی زندگی


بارہ برس تک وہ بچی دنیا کو ایک عجیب زاویے سے دیکھتی رہی۔ اس کی گردن ہمیشہ ایک طرف کو جھکی رہتی تھی، جیسے وقت وہیں تھم گیا ہو۔ یہ کہانی ننھی افشین کی ہے، جس کی زندگی نے بہت کم عمر میں ایک سخت موڑ لیا۔

جب وہ صرف دس ماہ کی تھی تو اچانک گرنے کے باعث اس کی گردن کی ہڈی کو شدید نقصان پہنچا۔ اس چوٹ نے اس کا سر تقریباً نوے درجے تک ایک طرف موڑ دیا۔ وقت کے ساتھ اسے دماغی فالج کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ وہ نہ خود چل سکتی تھی، نہ سیدھی بیٹھ سکتی تھی اور نہ ہی اپنے ہاتھ سے کھانا کھا سکتی تھی۔ گھر والوں نے ہر ممکن علاج کروایا، بریکٹس بھی لگوائے، مگر کوئی خاص بہتری نہ آئی۔ اس کے ملک میں اتنی پیچیدہ سرجری کے لیے مناسب سہولت موجود نہیں تھی، اس لیے امیدیں مدھم پڑنے لگیں۔

پھر قسمت نے نیا راستہ دکھایا۔ 2019 میں ایک برطانوی صحافی نے اس کے خاندان کو بھارت کے مشہور نیورو سرجن Dr. Rajagopalan Krishnan سے ملوانے میں مدد دی، جو Apollo Hospital سے وابستہ ہیں۔ سیاسی کشیدگی کے باوجود ڈاکٹر نے بلا معاوضہ علاج کی پیشکش کی۔ ان کے نزدیک ایک معصوم جان سب سے بڑھ کر تھی۔

کاغذی کارروائی مکمل ہوئی، خاندان نے Wagah Border عبور کیا، اور کئی مراحل پر مشتمل علاج شروع ہوا۔ 2022 میں چھ گھنٹے طویل آپریشن کے دوران ٹائٹینیم راڈز اور پیچ لگا کر اس کی گردن سیدھی کی گئی۔ خطرہ بہت زیادہ تھا، مگر نتیجہ حیران کن نکلا۔

چند ماہ بعد افشین نہ صرف سیدھی گردن کے ساتھ کھڑی تھی بلکہ چلنے اور بولنے بھی لگی۔ اس کے اہلِ خانہ کے لیے یہ کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ یہ داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب ہمدردی اور علم ساتھ ہوں تو سرحدیں معنی نہیں رکھتیں۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.