بلڈ ہاؤنڈ: وہ ناک جو انسان کی عقل کو بھی پیچھے چھوڑ دے


بلڈ ہاؤنڈ کو اگر قدرت کا سب سے ماہر سراغ رساں کہا جائے تو یہ مبالغہ نہیں ہوگا۔ یہ کتا اپنی غیر معمولی سونگھنے کی صلاحیت کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے، یہاں تک کہ کئی ممالک میں اس کی سونگھی ہوئی خوشبو کی بنیاد پر دی گئی معلومات کو عدالتوں میں بھی اہمیت دی جاتی ہے۔ انسان جہاں اپنی آنکھوں اور عقل پر انحصار کرتا ہے، وہیں بلڈ ہاؤنڈ کی اصل طاقت اس کی ناک ہے، جو قدرت کی طرف سے اسے ایک حیرت انگیز تحفے کے طور پر ملی ہے۔

اگر تعداد کی بات کی جائے تو فرق اور بھی حیران کن ہو جاتا ہے۔ ایک عام انسان کے پاس تقریباً پچاس لاکھ خوشبو پہچاننے والے خلیات ہوتے ہیں، جبکہ بلڈ ہاؤنڈ کے پاس یہ تعداد تیس کروڑ کے قریب ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتا سینکڑوں مختلف خوشبوؤں کے ہجوم میں سے بھی کسی ایک مخصوص خوشبو کو الگ پہچان سکتا ہے۔ جہاں ہمیں صرف ایک ملی جلی بو محسوس ہوتی ہے، وہاں بلڈ ہاؤنڈ کے لیے ہر خوشبو ایک الگ کہانی رکھتی ہے۔

بلڈ ہاؤنڈ کا جسمانی ڈھانچہ بھی اسی مقصد کے لیے بنا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اس کے لمبے اور جھکے ہوئے کان جب زمین کے قریب حرکت کرتے ہیں تو وہ مٹی، گھاس اور ہوا میں موجود باریک خوشبو کے ذرات کو اوپر اٹھا دیتے ہیں۔ یہ ذرات سیدھے اس کی ناک کی طرف جاتے ہیں، جیسے کسی خاص نظام کے تحت انہیں وہاں پہنچایا جا رہا ہو۔ اس کے علاوہ چہرے پر موجود جھریاں بھی کوئی خوبصورتی کا اتفاق نہیں بلکہ ایک عملی فائدہ رکھتی ہیں۔ یہ جھریاں خوشبو کے ذرات کو اپنے اندر روک لیتی ہیں، تاکہ کتا مسلسل انہیں محسوس کرتا رہے اور تجزیہ کرتا رہے۔

یہ صلاحیت صرف خوشبو کو پہچاننے تک محدود نہیں۔ بلڈ ہاؤنڈ کی ایک اور غیر معمولی خوبی اس کی “سونگھنے کی یادداشت” ہے۔ جب اسے کسی شخص کی کوئی چیز سونگھنے کے لیے دی جاتی ہے، جیسے کپڑا یا جوتا، تو وہ اس خوشبو کو ذہن میں محفوظ کر لیتا ہے۔ اس کے بعد چاہے وہ خوشبو کئی دن پرانی ہی کیوں نہ ہو، بلڈ ہاؤنڈ اسے دوبارہ پہچان سکتا ہے اور اسی بنیاد پر راستہ تلاش کرتا ہے۔

یہ کتا نہ صرف جنگل یا کچے راستوں پر بلکہ پکی سڑکوں، شہروں اور یہاں تک کہ پانی کے راستے بھی سراغ لگا سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص دریا عبور کرے یا گاڑی میں سفر کرے، تب بھی بلڈ ہاؤنڈ اکثر اس کی خوشبو کا تسلسل تلاش کر لیتا ہے۔ بعض واقعات میں یہ کتے سو میل سے بھی زیادہ فاصلے تک کسی ایک انسان کا پیچھا کرتے رہے ہیں، وہ بھی اس وقت جب خوشبو کئی دن پرانی ہو چکی تھی۔

اسی غیر معمولی صلاحیت کی وجہ سے بلڈ ہاؤنڈ کو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں خاص مقام حاصل ہے۔ جب جدید آلات، ڈرونز یا کیمرے ناکام ہو جاتے ہیں، وہاں اکثر یہی کتا آخری امید بن کر سامنے آتا ہے۔ گمشدہ بچوں، جنگل میں بھٹکے ہوئے افراد یا قدرتی آفات کے بعد لاپتہ لوگوں کی تلاش میں بلڈ ہاؤنڈ نے بے شمار جانیں بچائی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بلڈ ہاؤنڈ کی لگن بھی اس کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ایک بار جب اسے کسی خوشبو کا سراغ مل جائے تو وہ پوری توجہ اسی پر مرکوز کر لیتا ہے۔ اردگرد کا شور، لوگ یا دیگر جانور اسے آسانی سے بھٹکا نہیں سکتے۔ اسی لیے بعض لوگ مذاق میں کہتے ہیں کہ یہ “کتا نہیں بلکہ ایک ناک ہے جس کے ساتھ کتا لگا ہوا ہے۔”

انسانی ٹیکنالوجی جتنی بھی ترقی کر لے، ابھی تک کوئی ایسی مشین نہیں بن سکی جو بلڈ ہاؤنڈ کی ناک کا مکمل مقابلہ کر سکے۔ اس کی سونگھنے کی حس قدرتی، مسلسل اور حیرت انگیز حد تک درست ہوتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ صدیوں بعد بھی یہ کتا اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

آخر میں، بلڈ ہاؤنڈ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قدرت نے ہر مخلوق کو ایک خاص مقصد کے لیے مخصوص صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ جہاں انسان اپنی عقل اور علم سے دنیا کو سمجھتا ہے، وہیں بلڈ ہاؤنڈ اپنی ناک کے ذریعے وہ کام کر لیتا ہے جو ہمیں ناممکن لگتا ہے۔ یہ صرف ایک کتا نہیں بلکہ قدرت کا ایک زندہ ثبوت ہے کہ بعض اوقات سب سے بڑی طاقت خاموشی سے سانس کے ساتھ کام کرتی ہے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.